سلگتا_ہوا_عشق_وادیِ_جنات_میں
#قسط_نمبر = 1 =
نہیں شاہ جی مجھے منگنی نہیں کرنی.. اگر آپ سب کو مناسب لگے تو میں چاہتا ہوں دونوں فیملیز کی موجودگی میں سادگی سے نکاح کیا جائے... آہان نے سر جھکائے آہستگی سے کہا..
لیکن برخوردار تمہیں یاد ہے ہمیں ایک خاص مقصد کے لیے جانا ہے تو اسے میں شادی.. سید صاحب نے فکر مندی سے کہا..
شاہ جی پلیز.. مان جائیں نا.. پھر جہاں آپ کہیں گے جب تک کہیں گے میں چلنے کے لیے تیار ہوں.. آہان نے منت کی..
لیکن بیٹا...
شاہ جی جب آپ سب کی رضامندی مل گئی ہے تو میں نہیں چاہتا کہ اب میں انہیں غیر محرم بن کر سوچوں.. میری سوچیں تو پہلے بھی پاکیزہ تھی اب اگر فضا بھی مجھے سوچے مجھے یاد کرے تو اس کے دل میں یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ ابھی میں محرم نہیں.. وہ یاد بھی کرے سوچے بھی تو پورے حق سے.. پلیز شاہ جی آہان سید صاحب کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے بولا..
بیٹا جی وہ سب تو ٹھیک ہے مگر یہ آپ کے لیے آسان نہیں ھوگا.. آپ اپنا دھیان بھٹک جاؤ گے آپ کی تعلیم میں خلل پیدا ہو گا.. سید صاحب نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا..
نہیں شاہ جی.. یہ ان کی محبت ہی ہے جو مجھے یہاں تک لائی ہے ان کا عشق مجھے بھٹکنے نہیں دیتا بلکہ میرے عزم کو مضبوط کرتا ہے..مجھے ہمت دیتا ہے..
بیٹا جی پہلے وہ دسترس میں نہیں تھی تو نفس قابو میں تھا.. نکاح کے بعد وہ ہر طرح سے آپ کی دسترس میں ہونگی.. اس سے جدائی تمہیں کمزور کردے گی.. سید صاحب کے چہرے پر فکر صاف نظر آ رہی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے جس راستے پر آہان جا رہا ہے وہاں ہلکی سی کمزوری اس کی موت کا سبب بن سکتی ہے..
شاہ جی بھروسہ کریں میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا.. آہان نے بچوں کی طرح ضد کرتے ہوئے کہا..
ویسے شاہ جی آپ کو فکر کس بات کی ہے.. میں نوٹ کر رہا ہوں کوئی بات آپ کو بے چین کر رہی ہے.. ریاض شاہ کہنے لگا..
بے چین تو کر رہی ہے ریاض بھائی مگر میرا یہ شاگرد مجھے ہر چیز سے پیارا ہے.. سید صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا..
شاہ جی آہان میرا اکلوتا بیٹا ہے.. میری ساری جائیداد کا اکلوتا وارث.آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں.. ریاض شاہ کہنے لگا..
ارے ریاض بھائی یہ آپ کیا کہہ رہے ہے سید صاحب نے حیرت سے کہا..
بابا آپ یہ آپ کیا کہہ رہے ہے.. شاہ جی میری تعلیم کو لے کر فکر مند ہے نا کہ جائداد کو لے کر.. آہان نے باپ کو سمجھاتے ہوئے کہا..
او اچھا سوری شاہ جی میں کچھ اور سمجھا.. ریاض شاہ نے معذرت کی..
کوئی بات نہیں ریاض بھائی.. ہاں بھئی برخوردار کیا چاہتے ہو.. سید صاحب نے ہار مانتے ہوئے پوچھا..
شاہ جی ہم نے کب جانا ہے.. آہان نے الٹا سوال کیا.. جمعرات کی شام کو.. سید صاحب نے بتایا..
تو جمعرات کو ظہر کی نماز کے بعد نکاح اور عصر کے بعد روانگی.. آہان نے کھڑے ھوتے ہوئے کہا..
اور رخصتی.. سید صاحب کے ساتھ ساتھ ریاض شاہ نے بھی پوچھا..رخصتی ہماری منزل ملنے کے بعد تب تک فضا اپنی تعلیم جاری رکھے.. آہان نے کہا..
ٹھیک ہے جمعرات کو پوری تیاری کے ساتھ آ جانا.. سید صاحب نے حکمیا کہا..
جی شاہ جی.. آہان نے آگے بڑھ کر سید صاحب کے ہاتھ چوم لیے.. اور مڑ کر باپ کے گلے لگا.. سید صاحب بھی دونوں کے باری باری گلے ملے..
سید صاحب نے گھر میں سب کو بتایا تو سب کے چہرے مسرت سے کھل گئے..
دونوں گھروں میں خوش کی لہر دوڑ گئی مگر سید صاحب کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے..
بیٹا جی اندر آ سکتا ہوں.. سید صاحب نے فضا کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے کہا..
جی بابا جان آ جائیں.. فضا نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے دوپٹہ درست کرتے ہوئے کہا..
اسلام عليكم میری جان.. سید صاحب کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولے..
وعلیکم السلام ورحمته الله وبركاته بابا جانی.. فضا آگے بڑھ کر سر پر پیار لیتے ہوئے بولی..
بیٹھو بیٹا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے.. سید صاحب بیڈ کی پیروں والی سائٹ پر بیٹھتے ہوئے بولے.. فضا ان کے برابر بیٹھ گئی..
بیٹا جی.. میں نے آپ کا پرسوں نکاح آہان کے ساتھ فیکس کیا ہے. یہ آہان کی ضد تھی وہ چاہتا ہے کہ آپ کبھی بھی اسے یہ سمجھ کر سوچنا نہ چھوڑ دیں کہ وہ غیر محرم ہے.. اس لیے وہ محرم بننا چاہتا ہے تاکہ آپ حق سے اسے یاد کریں اور اپنے دل میں جگہ دیں.. سید صاحب گہری سوچ میں ڈوبے اسے بتا رہے تھے..
شکر الحمد اللہ عزوجل آپ نے میرے لیے ایسے شخص کا انتخاب کیا جو میری سوچوں کو بھی پاکیزہ رکھنا چاہتا ہے.. فضا آنکھیں بند کرکے دل ہی دل میں سجدہ شکر بجا لاتی ہے..
آپ نے جواب نہیں دیا بیٹا جی..
بابا جان آپ نے جو فیصلہ کیا ہے مجھے قبول ہے.. فضا نے کہا..
لیکن ایک بات ہے جس کا جننا آپ کے لئے بہت ضروری ہے.. میں نہیں چاہتا کل کو کبھی بھی آپ کے دل میں یہ خیال آئے کہ میں نے آپ کے حق میں غلط فیصلہ کیا ہے.. اور آپ کے دکھ تکلیف کا روز قیامت میں جواب داہ بن جاؤں.. سید صاحب نے فکر مندی سے گہری سانس خارج کرتے ہوئے کہا..
فضا نے تڑپ کر باپ کا چہرہ دیکھا جس پہ سوائے فکر اور پریشانی کے کچھ نہیں تھا..
بیٹا جی الله تبارک تعالیٰ نے آہان کو ایک خاص مقصد کے لئے چن لیا ہے.. اللّٰهُ چاہتا ہے وہ مخلوق خدا کی مدد کرے.. انہیں جنات اور شیطانی عملیات سے نجات دلانے میں مدد کرے..
جس کے لیے آہان کو ایک کڑے امتحان سے گزرنا ھوگا.. اپنے آپ کو ثابت کرنا ھوگا.. میں اس کی باہری مدد تو کر سکوں گا.. مگر اپنے اندر کو اسے خود ہی مضبوط کرنا هو گا..
وہ آپ سے محبت کرتا ہےجس بات کی مجھے بے حد خوش ہے آپ اس کی طاقت بھی ھو اور کمزوری بھی.. ابھی تک آپ لاحاصل تھی تو طاقت تھی.. مگر کل حاصل هو جاؤ گی.. تو کمزوری بن جاؤ گی.. سید صاحب اتنا کہہ کر خاموش ہو گئے..
فضا حیرت سے ان کا چہرہ دیکھ رہی تھی.. کیونکہ اس کی سمجھ میں سید صاحب کی بات نہیں آ رہی تھی..
مجھے پتہ ہے آپ کو میری پریشانی سمجھ نہیں آ رہی.. سید صاحب نے فضا کے سر پر ہاتھ رکھا..
بیٹا جس راہ پر آہان جانے والا ہے.. اس راہ میں زرا سی کمزوری اس کی موت کا سبب بن سکتی ہے.. جنات ہوائی چیزیں اسی جگہ وار کرتی ہیں جہاں سے انسان کمزور ھوتا هے..
اگر اس سب میں کسی جن یا ہوائی چیز نے آپ کو نقصان پہنچا دیا.. یا پھر کسی لمحے آہان کو کمزور جان کر اس پر جان لیوا وار کر دیا تو بیٹا جی آپ دونوں موت کے منہ میں چلے جاؤ گے..
اگر آپ کو کچھ هو گیا تو میں جانتا ہوں آہان سب کچھ ادھورا چھوڑ کر بھاگ آئے گا.. آپ کو بچانے کے لیے.. اور اس کا عمل ادھورا رہ جائے گا جو اس کی موت بنے گا..
اور اگر آہان پہ وار ہوا تو وہ اسی وقت موت کے منہ میں چلا جائے گا اور آپ؟؟ سید صاحب خاموش ہو گئے.. کیونکہ کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کے لئے بیوہ کا لفظ استعمال نہیں کر سکتا.. سید صاحب کی آنکھیں نم ہو گئی..
بابا جان.. انہیں اللّٰهُ تبارک تعالیٰ نے میرے لیے چنا ہے.. آپ کے پتہ لگنے سے پہلے اللّٰهُ تعالٰی نے خواب میں دو بار مجھے ان کے ساتھ خانہ کعبہ کی زیارت کروائی ہے.. تبھی میں نے اس رشتے کے لیے ہاں کہا تھا.. مجھے اپنے رب پہ پورا بھروسہ ہے انہوں نے میرے لیے بہترین فیصلہ کیا ہے.. تو جب اس رشتے کو جوڑنے میں اللّٰه تبارک تعالیٰ کی رضا شامل ہے تو پھر ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھیان مت دیں.. مجھے یقین ہے آہان اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہونگے اور میں ان کی کمزوری نہیں ہمیشہ طاقت ہی رہوں گی.. فضا نے اطمینان سے جواب دیا..
سید صاحب نے اس کا چہرہ دیکھا.. جس پہ محبت اور فتح کی دلفریب چمک تھی.. فضا کے ہونٹوں پر اپنے رب کے یقین کی مسکراہٹ تھی..
سید صاحب کے رواں رواں میں اطمینان دوڑ گیا.. ایسا لگا جیسے ساری پریشانی ہوا بن کر اڑ گئی هو.. انہوں نے محبت اور شفقت سے فضا کے ماتھے پر بوسہ دیا. جیتی رہو. دعا اور پیار دیتے ہوئے باہر نکل آئے..
سید صاحب نے نمازی کمرے میں دو نفل شکرانے کے ادا کیے اور سکون کا سانس لیا.. اب ان کے چہرے پر بھی بیٹی کی شادی کی خوشی چمک رہی تھی..
کنیز بی بی اور شانزے برہان کے ساتھ نکاح کی شاپنگ کرنے چلی گئی فاطمہ بھی ندیم کے ساتھ پہنچ چکی تھی.. گھر میں رونق لگی ہوئی تھی..
شام میں ریاض شاہ اور طلعت بیگم فضا کا نکاح کا جوڑا اور جیولری دینے آئے...
نکاح کا جوڑا لال رنگ کی خوبصورت میکسی تھی جیسے دوبئی کے مشہور ڈزائنر نے ڈزائن کیا تھا..
جیولری میں دنیا کے مہنگے ترین ڈائمنڈ سیٹ میں سے ایک جو آہان کو بہت پسند آیا تھا وہ تھا..
فضا کیونکہ ہیل پسند نہیں کرتی تھی تو اس کے لیے سونے کی تار سے بنا ہوا لال اور گولڈن کھوسہ جو میکسی سے میچ کرتا تھا.. ڈزائنر چوڑیاں اور میک اپ وغیرہ.. 10 ٹوکریاں میٹھائی اور اتنے ہی پھل وغیرہ..
ریاض شاہ بھائی.. جب کہا گیا تھا کہ نکاح سادگی میں ھوگا تو پھر یہ سب.. سید صاحب نے حیرت سے ساری چیزوں کو دیکھ کر کہا..
شاہ جی ہمارا ایک ہی بیٹا ہے اس کی خوشی تو ہم دل کھول کر سیلیبرٹ کریں گے اتنا تو حق ہے ہمارا.. ریاض شاہ سے پہلے طلعت بیگم بول پڑی..
لیکن ابھی رخصتی نہیں ہے جب رخصتی هو گی اپنے گھر میں جو مرضی کیجئے گا ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر.. سید صاحب کی حیرت کم نہیں ہو رہی تھی..
شاہ جی اب فضا ہماری بہو ہے وہ جہاں بھی رہے. رہے گی ہماری بہو.. تو یہ سب اس کے لیے ہے پلیز اعتراض نہ کیجیے گا.. ہم چاہتے ہیں کل فضا ہمارے گھر کا جوڑا پہنے.. ریاض شاہ نے بھی سید صاحب کے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا.. سید صاحب خاموش ہو گئے..
________________---------________-------_____
شیری فیضی اور زریاب سبھی سن کر حیران پریشان آہان کے گھر کی طرف دوڑے..
یہ یہ تم نے اچھا نہیں کیا ہمارے ساتھ.. گھر میں داخل ہوتے ہوئے تینوں بولے..
ہاہاہاہا میں نے کیا کیا ہے.. آہان نے مسکرا کر سب کا استقبال
کیا..شادی کر رہے هو وہ بھی کل دوپہر کو اور ہمیں بتایا بھی نہیں.. شیری بولا..
ہاہاہاہا بتایا ہے تبھی تم لوگ یہاں هو.. آہان نے ہنستے ہوئے کہا..
یار نہ تیاری کا وقت ہے نہ شاپنگ کا نا بارات کا انتظام.. فیضی نے بھی پریشانی سے کہا..
اووووئے اووووئے کوئی بارات نہیں جائے گی نہ شادی هو رہی ہے.. صرف نکاح ہے وہ بھی صرف ماں باپ کی موجودگی میں کوئی رشتے دار نہیں.. آہان نے ہاتھ کھڑے کرتے کہا..
مطلب ہم بھی نہیں جا سکتے یہ سب مجھے منظور نہیں مجھے نہیں پتہ... شیری منہ بناتے ہوئے صوفے پر ڈھ گیا..ارے تم لوگوں کے بغیر تھوڑی هو گا نکاح.. آہان ہنسنے لگا..
مجھے یہ بتا یہ اتنی ایمرجنسی میں کیوں کر رہا ہے سب ٹھیک تو ہے.. کافی دیر سے خاموش کھڑا زریاب اسے ساتھ لگاتے ہوئے بولا..
سب خیریت ہے مجھے کل شام شاہ جی کے ساتھ کچھ دنوں کے لئے آؤٹ آف سٹی (out of city) جاتا ہے ضروری کام سے تو تو میں نے کہا میں نکاح کرکے جانا چاہتا ہوں یہ نا ہو میرے آنے سے پہلے تمہاری بھابھی مکر ہی نا جائے. ہاہاہاہا.. آہان نے ہنستے ہوئے بتایا..
ایک نا مجھے تیرے شاہ جی کے ساتھ ضروری کام کی سمجھ نہیں آتی.. جب سے ملے ہیں ہمارا دوست بدل گیا ہے.. زریاب نے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا..
ہاہاہاہا اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں.. وہ تو صرف میری مدد کر رہے ہے یہ راستہ میرے لیے میرے رب نے چنا ہے.. آہان نے مسکراتے ہوئے کہا..
تینوں گپے لگاتے ہوئے آہان کے کمرے میں چلے گئے جہاں شمیم سب کے لیے شام کا کھانا اور کافی وغیرہ دے گئی..
اس رات آہان نے نماز کے علاوہ کوئی عبادت نہیں کی کیونکہ وہ رات وہ اپنے دوستوں کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا..
رات 2 بجے تینوں سو گئے تو آہان تہجد کے لیے جائے نماز کے کر ٹیرس میں آ گیا.. تہجد پڑھ کر 2 نفل شکرانے کے ادا کیے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے..
اے میرے پروردگار.. جس طرح تو نے مجھے ہدایت بخشی ہے. مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے.. مجھے اس راستے پر ثابت قدم رکھ..
اے میرے اللہ میرے دل میں اپنی اور اپنے پیارے حبیب صلی اللّْــــــــــــــــہ علیہ والہ وسلم کی محبت ہمیشہ قائم دائم رکھ..
میرے الله آپ نے میرے دل میں فضا کی محبت ڈالی ہے.. میرے پروردگار اس کی محبت کو کبھی بھی اپنی محبت پر حاوی مت ھونے دینا..
اے میرے پروردگار.. ہمارے ساتھ کو ہمیشہ رحمت اور. برکت والا ساتھ بنا... فضا کو ہمیشہ میری طاقت بنانا. اسے کبھی میری کمزوری مت بننے دینا...
الٰہی.. کل سے آپ کے بتائے ہوئے راستے پر اپنا پہلا قدم رکھنے جا رہا ہوں.. مولا میرے ہر قدم میں میرے ساتھ رہیے گا مجھے کبھی اکیلا مت چھوڑیے گا.. اگر کہیں پہ ڈگمگانے لگوں تو اپنی رحمت سے تھام لیجیے گا..
آپ کو آپ کے حبیب صلی الله علیه وآلہ وسلم کا واسطہ.. مجھے ثابت قدم رکھیے گا.. میرے ایمان کو مضبوطی عطا فرمائیں آمین ثمہ آمین یا رب العالمین 
فجر کی نماز پڑھ کر قرآن کی تلاوت کر رہا تھا جب تینوں جاگ گئے..
اٹھ جاؤ تم لوگ بھی نماز ادا کر لو.. آہان نے زریاب کو اٹھتے دیکھ کر کہا..
تو جماعت کے وقت اٹھا دیتے نا.. زریاب نے منہ بناتے ہوئے کہا
معاف کر دے یار دھیان نہیں رہا.. آہان کو واقعی شرمندگی ہوئی.. اچھا چل کوئی بات نہیں ہم آج گھر میں پڑھ لیتے ہیں.. آہان کی دیکھا دیکھی تینوں بھی نماز کی پابندی کرنے لگے تھے.. زریاب نے کہا اور وضو کرنے چلا گیا..
ظہر کی نماز کے بعد گھر والوں اور دوستوں کی موجودگی میں نکاح سرانجام پا گیا.. آہان کچھ پل فضا کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا
تبھی اسے اماں بی کے کمرے میں برہان چھوڑ گیا..
وہ صوفے پہ بیٹھا اس کا انتظار کرنے لگا.. اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا.. ایسا محسوس هو رہا تھا آج یہ سینے کی دیواروں کو چیر کر باہر نکل جائے گا..
رک جا رک جا اس طرح سے دھڑکے کا تو بند ہو جائے گا اور مجھے ابھی مرنا نہیں ہے ابھی تو کچھ لمحے پہلے مجھے میری زندگی ملی ہے.. پلیز تھم جا مجھے اس کے ساتھ جینا ہے.. آہان اپنے دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھے سرگوشی کر رہا تھا..
نکاح کے بعد اس نے سب سے اجازت مانگی تھی وہ جانے سے پہلے کچھ پل فضا کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا..
برہان اسے اماں بی کے کمرے میں بیٹھا کر جا چکا تھا.. اب وہ شدت سے اس کا انتظار کر رہا تھا.. مگر یہ دل لگتا ہے قسم کھا کر بیٹھا ہے بند ہو کر ہی آرام کرے گا..مگر قصور اس کا بھی نہیں. وہ جسے بنا دیکھے اس دل کو عشق هو گیا تھا وہ جس کا نام لے کر اب یہ دھڑکنے لگا ہے.. آج اسے روبرو دیکھے گا تو اس کا بند ہونا تو بنتا ہے.. آہان سوچ کر ہی مسکرا دیا.. اب وہ دل بہلانے کے لیے کمرے کا جائزہ لینے لگا..
کمرہ کیا ایک چھوٹا سا ہال تھا جس کے ایک طرف بیڈ بچا ہوا تھا جس پہ سفید پھولوں والی بیڈ شیٹ اسے بہت نفیس بنا رہی تھی.. ساتھ ایک بڑے سائز کا صوفہ جس پہ آہان بیٹھا تھا.. ایک چھوٹی سی میز جبکہ دوسرے حصے میں خوبصورت قالین بچھا کر اوپر جائے نماز تہہ کیے ہوئے پڑے تھے سامنے ایک
شلف جس پر5 6 پر قرآن مجید اور اسلامی کتابیں رکھی ہوئی تھی.. صوفے کے سامنے دروازہ اور دروازے کے قریب ہی سیڑھیاں.. صوفے پہ بیٹھا شخص اوپر سے آتے ہوئے شخص کو آسانی سے دیکھ سکتا تھا..
............
سفید دوھیا وجود پہ لال رنگ کی میکسی . میکسی پہ گولڈ نقشی کا کام رات کو لائٹ کی روشنی میں ایسے چمک رہے تھا جیسے چاند کے گرد ستارے.. وہ سہج سہج کر قدم اٹھاتی ہوئی سیڑھیاں اتر رہی تھی.. چاند روشن سے چہرے پر ہرنی سے غزالی آنکھیں آنکھوں پہ دراز پلکوں کی جھالر.. گلاب کی پنکھڑی سے زیادہ نازک اور سرخ ہونٹ جس پہ لال لپسٹک انہیں اور خوبصورت بنا رہی تھی.. برف کے گولوں جیسے گال شرم سے لال هو کر انگارہ لگ رہے تھے مانو چھوؤ تو خون رسنے لگے..
کانوں میں ڈائئمنڈ ائیر رنگ اپنی آب وتاب سے چمک اور جھول رہے تھے.. جس کے ساتھ ساتھ آہان اپنے دل کو بھی جھولتا محسوس کر رہا تھا.. گلے میں پہنا ڈائمنڈ نیکلس.. اب لگ رہا تھا کہ وہ واقعی بہت قیمتی ہے کیونکہ ایک ڈائمنڈ کے گلے لگ کر دوسرا دوگنا خوبصورت اور انمول ھو گیا تھا..
چہرے پر گرائی گئی بالوں کی یہ شریر لٹ.. آہان کی نظروں کی طرح بار بار فضا کا رخسار چوم کر پیچھے هو جاتی مگر اگلے ہی لمحے تڑپ کر پھر چومنے کو لوٹ آتی..
آہان پلکیں جھپکائے اک ٹک اسے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ واقعی یہ عشق کرنے کے قابل ہے.. اگر نہ بھی ہوتی تب بھی یہ میرا عشق اور نصیب تھی اور ہے اور رہے گی..
مگر میں خوش نصیب ہوں کہ یہ میرا مقدر میرا نصیب ہے..
فضا اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کرکے شرم سے لال ہوئی جا رہی تھی..
آہان اسے آتا دیکھ کر کھڑا ہو گیا..
شانزے دونوں کی حالت دیکھ کر دل ہی دل میں مسکرا رہی تھی.. وہ فضا کو لے کر آ رہی تھی.. آج وہ شانزے جو کبھی پردے کے نام پر حجاب لیتی تھی مکمل پردے میں تھی کیونکہ اب وہ شانزے عمر حیات نہیں شانزے برہان شاہ تھی..وہ فضا کو کمرے میں چھوڑ کر واپس پلٹ گئی..
اج پہلی بار دل کی دھڑکن بے ترتیب ھو رہی تھی آج ایک انوکھا سا احساس فضا کو اپنے حصار میں لے رہا تھا جسم پہ شرم و حیا کے ساتھ ساتھ کپکپی سی طاری تھی..
وہ پلکیں جھکائے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ناکام ہو رہی تھی..
اسلام عليكم ورحمه الله وبركاته.. آہان کا رعب دار انگریزی لہجہ کمرے میں گونجا..
وعلیکم السلام ورحمته الله وبركاته کہنے ہوئے
فضا نے حیرت سے نظریں اٹھا کر پہلی بار نظر بھر کر اسے دیکھا..
لمبا قد. سرخ و سفید. انگریزوں جیسی رنگت.. نیلی آنکھوں پہ لمبی داز پلکیں.. تیکھے نقوش.. ہلکی ہلکی مونچھیں اور چھوٹی چھوٹی براؤن داڑھی. جسے بڑے مہارت سے خط کیا گیا تھا.. سر پر گولڈن اور براؤن ملتے جلتے بال جو اس کی شخصیت کو اور نکھار رہے تھے..
چوڑا سینہ بھرا بھرا جسم جو کئی سال جم کرنے سے کسی باڑی بلڈر سے کم نہیں لگ رہا تھا..
سفید کاٹن کے برینڈیڈ شلوار سوٹ پہ گولڈ واسکٹ.. پہنے بہت ہی وجیہہ ہینڈسم لگ رہا تھا..
فضا کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پاکر. آہان ہلکا سا مسکرایا.. کیونکہ وہ اپنی کیفیت پہ قابو پا چکا تھا..
پسند آیا ہوں .. اس. نے مسکراتے ہوئے پوچھا..
فضا شرما گئی..
آہان نے اگلے بڑھ کر ہاتھ پکڑا اور اپنے برابر بیٹھا لیا..
کئی لمحے خاموشی کی نظر ھو گئے.. آخر خاموشی کو آہان نے توڑا..
میں آپ سے کتنی محبت کرتا ہوں میرے پاس اس کا کوئی پیمانہ نہیں ہے.. اتنا کہوں گا کہ یہ آپ کی محبت ہی تھی جو ایک بھٹکے ہوئے انسان کو راہ راست پر لے آئی..
وہ اپنے ہاتھوں میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے محسوس کرتا ہوا بول رہا تھا..
میں نے آپ کی محبت سے اللّٰهُ اور اس کے رسول صلی الله علیه وآلہ وسلم کی محبت تک سفر کیا ہے.. آپ ہر قدم پر میری طاقت بنی ہے.. ہر قدم پر مجھے گرنے سے بچایا ہے..
جانتی ہے میں نے خواب میں آپ کے ساتھ حج بھی کیا ہے..
فضا نے چونک کر آہان کو دیکھا.. مگر وہ اس کے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا جو اس کے ہاتھوں میں تھا..
فضا میں یہ نہیں کہتا کہ آپ بھی بدلے میں مجھ سے محبت کریں.. آپ نہ بھی کرو تو بھی میری محبت ہم دونوں کے لئے کافی ہے..
میں صرف یہ کہوں گا.. آپ جب بھی اللّٰهُ کے حضور سجدہ ریز ہو اللّٰهُ سے ملاقات کریں تو اپنی دعاؤں میں مجھے بھی شامل کریں..
فضا میں بہت خطرناک راستے کا مسافر ہوں.. میرے قدم قدم پہ موت کھڑی ہے.. مجھے آپ کی دعاؤں کی اشد ضرورت ہے.. پلیز میری طاقت بنیں میرے لیے دعا کریں..
کہتے ہیں شوہر کے حق میں بیوی کی کی گئی دعائیں اللّٰهُ تبارک تعالیٰ کبھی رد نہیں کرتا..
یہ ہی وجہ تھی کہ میں نے نکاح میں جلدی کی تاکہ جب میں جاؤں تو پیچھے سے آپ کی دعائیں میری حفاظت کریں..
آہان نم آنکھوں سے اس کے ہاتھ کو سہلاتے ہوئے بول رہا تھا..
اور اگر میں ناکام ہوا تو میرا انجام آپ اچھے سے جانتی ہے..
میرے والدین کا خیال رکھیے گا.. میری طرف سے آپ پر کوئی پابندی نہیں. ھو گی.. میرے بعد آپ جہاں چاہیں...
آہان خاموش ہو گیا.. کیونکہ اگلے الفاظ اس کی زبان ادا نہ کر سکی.. اس نے فضا کی طرف دیکھا.. جو اسے ہی دیکھ رہی تھی اور رو رہی تھی..
آہان کی اپنی آنکھیں بھی رونے سے لال ہو رہی تھی مگر وہ فضا کے آنسو دیکھ کر تڑپ گیا..
ارے آپ رو کیوں رہی ہے.. پلیز پلیز پلیز رونا بند کریں میں نے پہلی ہی ملاقات میں آپ کو رولا دیا.. ایم سوری. آہان اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا..
یہ یہ خوشی اور فخر کے آنسو ہے ان کا بہہ جانا ہی ٹھیک ہے ورنہ یہ غرور بن جاتے ہیں.. میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے آپ جیسا ہمسفر ملا..
مجھے اتنی محبت کرنے والا اللّٰهُ کا صالح بندہ ملا..
میری ہر دعا آج کے بعد آپ سے شروع ہو کر آپ پہ ختم ہو گی.. ان شاء الله میں آپ کی طاقت بنوں گی..
آپ میری فکر بلکل بھی مت کیجیے گا اللّٰهُ تبارک تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے.. آپ جس راہ پر جا رہے ہیں اللّٰهُ ہر قدم پر کامیابی نصیب فرمائے.. آمَیـــــــــــــــــن ثُمَّ آمَیِنَ یَا رَبِّ العالمين..
آپ کامیاب ہو کر لوٹیں.. آپ مجھے اپنا منتظر پائیں گے..
فضا نے اپنا دوسرا ہاتھ آہان کے ہاتھوں پہ رکھتے ہوئے کہا..
آہان فضا کی آواز اور لہجہ سن کر دلوں جان سے ایک بار پھر سے فدا ہو گیا..
اتنے میں عصر کی اذان ھونے لگی..
اب مجھے اجازت دیں اپنی دعاؤں میں رخصت کریں.. تاکہ میں کامیاب ہو کر لوٹ سکوں..
آہان نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا..
فضا بھی کھڑی ہو گئی.. اللّٰهُ حافظ.
فضا.. اللّٰهُ حافظ..
آہان فضا کو وہیں چھوڑ کر سید صاحب اور جہاں سب مرد حضرات بیٹھے تھے آ گیا..
آہان کو دیکھ کر سب کھڑے ہو گئے اور نماز عصر کے لیے مسجد جانے لگے..
جاری......

0 Comments