نصیبِ عشق
تحریر مصباح عرفان
قسط 01
" بس ایک بار نکاح ہو جاۓ اس کے بعد میں اس بڈھے سے ایسا بدلہ لوں گا کہ وہ ساری زندگی یاد رکھے گا اس کی بیٹی کو پل پل تڑپاؤں گا ، اپنی بیٹی کو گھٹ گھٹ کر جیتے ہوۓ دیکھ کر وہ بڈھا میرا پیروں میں ہو گا اور میرے دل میں ٹھنڈ پڑے گی ۔
برسوں پرانا میری ماں کا بدلہ پورا ہو گا جس طرح سے اس نے میری ماں پر ظلم کر کے اسے موت کے گھاٹ اتارا تھا اب اسی جگہ اس کی بیٹی ہو گی کل وقت اس کا تھا اور آج وقت میرا ہے ، شمس الدین کی بیٹی کی " ہاں " سے میرا بدلہ شروع ، آج اس کی ہاں کے بعد میری ماں کی روح کو سکون ملے گا "
وہ مکمل تیار کھڑا ہوا اپنی تیاری کو آخری نظر آئینے میں دیکھتے ہوۓ بولا ۔
" اگر اس کے باپ نے آنٹی کے ساتھ برا کیا تھا تو اس میں اس بیچاری لڑکی کا کیا قصور ہے تمھیں نہیں لگتا کہ یہ اس معصوم کے ساتھ زیادتی ہو گی "؟؟
مراد نے اسے پرفیوم تھماتے ہوۓ پوچھا ۔
"!شششش ! خاموش رہو مراد! کیا میری ماں معصوم نہیں تھی ،؟ میرے باپ کو نیچا دیکھانے کی خاطر اس بڈھے نے میری ماں پر ظلم کر کے انھیں موت کے گھاٹ اتارا تھا ، اس سب میں میری ماں کی کیا غلطی تھی بتاؤ مجھے اب میں بھی وہی کروں گا اور کوئی میرے راستے میں نہیں آۓ گا ! اگر آیا بھی تو میرے بازوؤں میں اب اتنی طاقت موجود ہے کہ میں اسے روک سکوں اس کا مقابلہ کر سکوں ۔
اب یہ " امان شاہ " اتنا کمزور نہیں ہے کہ خاموشی سے کھڑا دیکھتا رہے "
اس نے اپنی ٹائی درست کرتے ہوۓ خود پر پرفیوم کا چھڑکاؤ کیا ۔
" اس طرح سے اس میں اور تم میں تو کوئی فرق نہیں رہے گا جو اس نے آنٹی کے ساتھ کیا وہی تم بھی اس کی بیٹی کے ساتھ کرنے لگے ہو ، تمھارے بدلے کی آگ میں وہ بھی جھلس کر مر ہی جاۓ گی "
" مجھے تم اس گھٹیا انسان کے ساتھ کیسے کمپیئر کر سکتے ہو مراد ۔
اور اگر تم اپنی بات پر دھیان دو تو ایسا ہر گز نہیں ہے میری ماں کسی اور کی عزت تھی اور اس شمس الدین نے میری ماں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
میں اس پل کو سوچ بھی نہیں سکتا بابا کے ساتھ دوستی کی آڑ میں اس گھٹیا انسان نے مجھ سے میرے ماں باپ چھین لیے میں اسے کبھی معاف نہیں کر سکتا ۔
میں اس کی بیٹی کو اپنی عزت بنانے جا رہا ہوں جس پر صرف میرا حق ہو گا اور میں اسی کی آڑ میں شمس الدین سے بدلہ لوں گا "
اسے تنبیہی نظروں سے دیکھتے ہوۓ امان نے اپنے قدم باہر کی جانب بڑھاۓ جس کا مطلب تھا وہ اس کی بات مزید نہیں سننا چاہتا ۔
•••••••••••••••••••••
" رضیہ اپنی بیٹی کو سمجھاؤ میں اس کی کوئی بات سننا نہیں چاہتا ۔
اگر اسے کوئی مسئلہ تھا تو پہلے منع کر سکتی تھی اب وہ نکاح کے لیے آ رہے ہیں اور خاموشی کے ساتھ نکاح کے لیے راضی ہو جاۓ "
شمس نے نکاح کی تیاریاں کیں تو مینا نے آ کر اس نکاح سے انکار کر دیا پہلے تو وہ اس کا انکار سن کر شاکڈ ہو گیا لیکن خود کو سنبھالتے ہوۓ وہ اپنی بیوی رضیہ سے مخاطب ہوا ۔
" پاپا جانی میں نے ماما کو بولا تھا کہ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی آپ نے بھی سب کچھ آناً فاناً تیار کر لیا آخر آپ کو اتنی جلدی کیا تھی ایک بار مجھ سے بات نہیں کر سکتے تھے "
اس نے شمس کی پیشانی پر پڑی ہوئی شکنیں دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔
" مینا بیٹا وہ لڑکا ہوتا ہی باہر کے ملکوں میں ہے ، تمھیں وہ خوش رکھے گا تم عیاشی کی زندگی گزارو گی ساری زندگی خوش رہو گی اور کیا چاہیے تمھیں ، اپنے پاپا کی بات سن لو اور نکاح کی تیاری کرو اب انکار کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی بیٹا "
مینا کو کسی صورت مانتے ہوۓ نہ دیکھ کر شمس اسے پیار سے پچکارنے لگا ۔
" پاپا آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی پتہ نہیں کون ہے ؟ کیسا ہے ؟ میں بغیر دیکھے کیسے کسی سے بھی شادی کر لوں "؟؟
وہ شمس کے پاس نیچے کارپٹ پر بیٹھتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ رکھتے بولی ۔
" بیٹا میں نے دیکھا ہوا ہے نا تمھیں اپنے پاپا کی پسند پر بھروسہ نہیں ہے کیا وہ بہت ہینڈسم ہے گڈ لوکنگ ہے پیارا ہے بس عمر میں تم سے پانچ چھے سال بڑا ہے تم تئیس سال کی ہو اور وہ اٹھائیس انتیس سال کا ہو گا سب سے بڑی بات وہ تمھیں بہت عیش و آرام میں رکھے گا اور وہ اپنی عمر کے مطابق اتنا بڑا لگتا بھی نہیں ہے "
شمس امان کی خوبیاں گنتے ہوۓ اسے منانے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگا ۔
" اففف پاپا کیا ہو گیا ہے آپ کو ،
میں آپ پر اتنی بھاری پڑ گئی ہوں کہ مجھے ایک بڈھے کے پلے باندھ رہے ہیں آپ ؟؟
میں بس آخری بار بتا رہی ہوں اگر آپ نے مجھ پر زور زبردستی کی تو میں اپنی جان دے دوں گی پھر بلانا اس بڈھے کو آ کر میری لاش کے ساتھ نکاح کرے "
ان کی بات سن کر مینا ان کے ہاتھ چھوڑ کر اٹھی اور انگلی اٹھاتے ہوۓ انھیں وارن کر کے پاؤں پٹکتی ہوئی باہر چلی گئی ۔
" رضیہ کیا تمھارے پاس کچھ دماغ ہے کہ نہیں ۔
مجھے بتا نہیں سکتی تھی تم کہ مینا اس نکاح کے لیے راضی نہیں ہے میری ایک ہی اکلوتی اولاد ہے میں اسے ہر گز کھو نہیں سکتا "
مینا کی بات سن کر اس کا چہرہ فق ہوا وہ جانتا تھا کہ جتنی وہ ضد کی پکی ہے وہ ایسا کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گی اس کو وہاں سے جاتے ہوۓ دیکھ کر شمس رضیہ پر برسنے لگا ۔
" مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے آپ کو تو پتہ ہے ہمیشہ ہر بات کے لیے وہ پہلے مرحلے میں انکار ہی کرتی ہے میں نے بھی سوچا کہ ایسے ہی انکار کر رہی ہو گی ، اس نے میرے ساتھ واضح بات نہیں کی تھی "
رضیہ نے اسے غصہ ہوتے دیکھ کر دوبدو جواب دیا ۔
" اب کیا کروں میں ، وہ لوگ پہنچنے والے ہوں گے شکر ہے کہ امان کی شرط کے مطابق نکاح سادگی سے رکھا تھا ورنہ ابھی پورا گھر مہمانوں سے بھرا ہوتا اور میری عزت مٹی میں مل جاتی، لیکن اب انھیں کیا جواب دیں گے " ؟؟
اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ وہ پرسوچ انداز میں رضیہ سے پوچھنے لگا اور پریشانی سے اٹھ کر ادھر اُدھر ٹہلنے لگا ۔
" واپس بھیج دیں گے کہیں گے ہماری بیٹی کو آپ کا بیٹا پسند نہیں آیا ، ویسے بھی کون سے کوئی مہمان آۓ ہیں جو عزت پر بات آۓ گی کچھ ہوا بھی تو بات کون سی باہر جاۓ گی "
رضیہ نے پانی کا گلاس اسے تھماتے ہوۓ فری کا مشورہ دیا ۔
" کم عقل عورت ، وہ کوئی گلی محلے کا عام انسان نہیں ہے ، عزت پر بات تو آۓ گی اس نے میری کمپنی میں بہت بڑی انویسٹمنٹ کی ہے عزت کے ساتھ ساتھ بزنس میں بھی بہت بڑا لاس ہو گا تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے تم جا کر شاہدہ کو میرے پاس بھیجو "
رضیہ کی کم عقلی پر افسوس کرتے ہوۓ اس نے کہا تو وہ منہ کے زاویے بگاڑتی ہوئی وہاں سے چلی گئی ۔
شمس ولا میں صرف ایک ہی فیملی آباد تھی ۔
شمس الدین اور شاہدہ دو بہن بھائی تھے ۔
جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوۓ اس نے رضیہ سے شادی اپنی پسند پر کی تھی ۔
اس کی شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی ان کے والدین اس دنیا سے رخصت ہو گئے تو شمس کے گھر بھی بیٹی کی آمد ہوئی ۔
مینا کے پیدا ہونے کے بعد شمس نے شاہدہ کو اپنے دوست دانش کے ساتھ بیاہ کر اس کے ساتھ رخصت کر دیا شادی کے چار سال بعد ہی ایک ایکسیڈنٹ میں دانش کی موت واقع ہو گئی تو شاہدہ اپنی ایک سالہ بیٹی " دل " کو لیکر واپس اپنے بھائی کے در پر آ گئی ۔
رضیہ نے شاہدہ کو دیکھتے ہی ناک بھنویں چڑھا لیں ہاں البتہ شمس کا اس کے ساتھ بی ہیویر نہ اچھا تھا اور نہ برا ۔ شاہدہ نے بھی یہ بات محسوس کر لی تھی کہ رضیہ کو اس کا یہاں رہنا پسند نہیں ہے اسی لیے وہ خاموشی کے ساتھ ہر کام میں جت گئیں رضیہ اور پانچ سالہ مینا کے سارے کام بھی وہ خود ہی کرنے لگیں ۔
رضیہ کے ساتھ اس کی بیٹی مینا بھی شاہدہ پر حکم چلانا اپنا فرض سمجھتی تھی ۔
کام کی وجہ سے رضیہ کو آرام مل گیا لیکن وقت بے وقت وہ اپنے احسان جتلانے سے باز نہیں آتی تھی ۔
••••••••••••••••••••
" بھائی جان آپ نے مجھے بلایا تھا "
اس کا بلاوہ سن کر شاہدہ شمس کے کمرے میں آئی تو اسے پریشانی سے ٹہلتے ہوۓ دیکھ کر پوچھنے لگی ۔
" ہاں شاہدہ ادھر آؤ کر بیٹھو ، مینا نے مجھے بہت پریشانی میں ڈال دیا ہے اور مجھے تمھاری مدد کی ضرورت ہے "
شاہدہ کو دیکھتے ہوۓ وہ جا کر صوفے پر بیٹھ گیا اور انھیں بھی اپنے پاس بلا لیا ۔
" جی بھائی کیا ہوا ہے ، کیا کیا مینا نے ؟ اسے ڈریس پسند نہیں آیا ہے کیا ؟"
وہ شمس کے پاس بیٹھتے ہوۓ اس کی پریشانی کی وجہ پوچھنے لگیں مینا کے نکاح سے وہ بہت خوش تھیں ابھی نکاح کے لیے وہ تیار ہو کر اس کے روم میں آئی تھیں ۔
" ڈریس کی بات نہیں ہے شاہدہ ، ڈریس ہوتا تو میں اسے سو ڈریسز کا کر دے دیتا ، اس نے نکاح سے انکار کر دیا ہے "
شمس نے اپنے ہاتھوں کو آپس میں مسلتے ہوۓ اپنی بات پوری کی ۔
" جج۔ جی یہ کیا کہہ رہے ہیں بھائی اس نے ایسا کیوں کیا عین وقت پر ، اب کیا ہو گا "؟؟
شمس کی بات سن کر وہ بھی شاکڈ ہو گئیں اور پریشانی سے پوچھنے لگیں ۔
" دیکھو شاہدہ اسی مسئلے کے حل کے لیے میں نے تمھیں یہاں بلایا ہے اب میری عزت تمھارے ہاتھ میں ہے "
اس نے کچھ سوچتے ہوۓ اپنی بات شاہدہ کے گوش گزار کی ۔
" آپ کیا کہہ رہے ہیں بھائی ، آپ کی عزت میرے ہاتھ میں کیسے ہے اور مینا کے انکار کا اس بات سے کیا کنکشن ہے "
وہ شمس کی بات کو کچھ نہ کچھ سمجھ رہی تھی لیکن سمجھتے ہوۓ بھی انجان بن رہی تھیں کیونکہ وہ جو سمجھ رہی تھی وہ شمس کے منہ سے کبھی بھی سننا نہیں چاہتی تھیں ۔
" شاہدہ میں نے تمھیں اور تمھاری بیٹی کو ہمیشہ سہارا دیا ۔ تم لوگوں کے سر پر ہاتھ رکھا بنا کچھ کہے تم لوگوں کے سب اخراجات اٹھاۓ ۔
تم سے کبھی کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا لیکن آج تم میری عزت رکھنے کی خاطر مینا کی جگہ دل کا نکاح کروا دو "
وہ جو نہیں سننا چاہ رہی تھیں شمس نے تمہید باندھتے ہوۓ وہی بات کہہ کر اس کے سر پر بم پھوڑا ۔
" بھائی جان آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں آپ جانتے ہیں دل بہت چھوٹی ہے ابھی اٹھارہ سال کی بھی نہیں ہوئی ہے ، میں اس کا نکاح کیسے کر سکتی ہوں "
انھوں نے لڑکھڑاتے ہوۓ لہجے میں زخمی نگاہوں سے انھیں دیکھ کر کہا ۔
" شاہدہ میں نے آج پہلی مرتبہ تم سے کچھ مانگا ہے ، آج تک میں نے تمھیں اور تمھاری بیٹی کو سنبھال کر جو احسان کیا ہے آج تمھارے پاس موقع ہے تم دل کا نکاح کر کے وہ سارے احسان اتار سکتی ہو "
شمس بغیر شرمندہ ہوۓ اپنی ذمہ داری کو احسان کا نام دے گیا اپنی بیٹی کو بچانے کی خاطر وہ اپنی ہی بہن کی کم عمر بیٹی کو آگ میں جھونک رہا تھا ۔
.......................................جاری ہے

0 Comments