Keasay Juda Rahain by Noore Shaal

ناول: " کیسے جدا رہیں؟ "
مصنفہ: " نورِ شال "
قسط نمبر 1

🌹🌹🌹🌹🌹

مئ کے اواخر دن چل رہے تھے اسی لیے ہر سو سورج کی تپتی دھوپ آگ کی طرح برس رہی تھی۔ ہر نئے روز پہلے کی نسبت جیسے گرمی کا زور بڑھتا جا رہا تھا۔ چالیس ,پینتالیس ڈگری گریڈ درجہء حرارت ریکارڈ کیا جا رہا تھا ہر طرف روپیلی دھوپ کا راج تھا , ایسے میں چاروں اطراف سے گھنے درختوں میں گھرا یہ عاشرم ( یتیم خانہ) کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ بلند و بالا عمارت کے اندر ایسا ماربل استعمال کیا گیا تھا کہ سردیوں میں نیچے بچھا سرمئی اور سرخ رنگ کا فرش گرم ہو جاتا تھا وہاں ہی گرمیوں میں اے سی جیسی ٹھنڈک کا احساس ہوتا۔ اندر باہر مختلف پودوں اور درختوں کی وجہ سے ہر وقت خصوصاً رات کے وقت ہلکی ہلکی ہوا چلنے لگ جاتی۔ آبادی سے کچھ ہٹ کر بنا یہ یتیم خانہ کسی جنگل میں بھولے سے نظر آنے والے مکان کی مانند تھا۔
اندورنی اور بیرونی خوبصورتی کی حامل اس عمارت کے اندر کیا کچھ چل رہا تھا اس کا باہر کی دنیا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ نیکیوں کی آڑ میں کیسے کیسے کبیرہ گناہ سرزد ہو رہے تھے کسی کو اس کا کیا علم۔۔۔۔۔۔؟
"پلیز باجی! چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مم مجھے اس جگہ پھر سے نہیں جانا , میں یہ سب نہیں کر سکتی ۔ آپ جو کہو گی میں وہ کر لوں گی لیکن یہ ظلم مجھ پر مت کریں۔"
آنسوؤں سے تر چہرہ لیے ایک انتہائی خوبصورت لڑکی وارڈن کے پیروں میں گری گڑ گڑا کر اپنی عزت و ناموس کی بھیک مانگ رہی تھی۔ لیکن وہاں رحم کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
"دیکھو لڑکی! چپ چاپ ہمارے ساتھ چلو , کیوں سب کے سامنے اپنا تماشہ بنوا رہی ہو۔"
وارڈن نے کرختگی سے کہا اور اس کے اشارے پر ڈیوٹی پر موجود دو عورتیں اس کے لاکھ شور مچانے پر بھی اسے بےدردی سےگھسٹتی ہوئیں لے گئیں اور وہ بس چھپ کر دیکھتی رہ گئ اس کے لیے کچھ نہ کر سکی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو روانگی سے بہہ نکلے , وہ اس کی روم میٹ ہونے کے ساتھ ساتھ دوست بھی تھی اس لیے اس کے لیے یہ سب دیکھنا بہت تکلیف دہ تھا۔
انسان کی سرشت میں معاف کرنا , رحم کھانا کہاں شامل ہے , معاف کرنے والی, رحم کرنے والی ایک ہی پاک ذات ہے اور وہ ہے اللہ کی ذات۔
"کیا میں اپنی دوست کو بچانے کے لیے کچھ نہیں کروں گی ,چپ چاپ تماشہ دیکھتی رہوں گی؟" اس کے ضمیر نے جیسے اس سے سوال کیا۔ اسی پل اس کی نظر سامنے اٹھی ایک نوجوان جوڑا اندر کی طرف جا رہا تھا۔
اس کے دل و دماغ میں امید سی جاگی۔
"نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔میں کوشش ضرور کروں گی لیکن اس کے لیے سب سے پہلے مجھے یہاں سے نکلنا ہو گا۔" وہ مضبوط ارادہ باندھتی دیوار کے پیچھے سے نکل کر اس سمت تیز تیز چلنے لگی۔ دوپہر کا وقت ہونے کی وجہ سے کوریڈور اس وقت خالی پڑا تھا اور اس سے اچھا موقع اس کے لیے اور کیا ہو سکتا تھا۔
"باجی۔۔۔۔۔۔باجی! " وہ ان کے قریب جا کر کانپتی آواز میں بولی ,اپنے عقب سے انجانی اور پریشان کن آواز سن کر وہ جوڑا حیرانی سے پلٹا۔
"کیا بات ہے لڑکی تم اتنی گبھرائی ہوئی کیوں لگ رہی ہو؟" وہ لڑکی شاید نرم دل کی مالک تھی فوراً رک کر پوچھنے لگی۔
"خدایا! میری مدد کریں, مجھے یہاں نہیں رہنا یہ اچھی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔یہ بہت ظالم لوگ ہیں۔" وہ التجا کرتی یک دم رو پڑی تو لڑکا لڑکی ناسمجھی کے عالم میں پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
"تمہارا کیا نام ہے اور کیسی مدد چاہیے تمہیں, بتاؤ؟" وہ لڑکی اس کے قریب آ کر کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے بولی تو اسے کچھ حوصلہ ملا۔ اس نے کن اکھیوں سے ادھرادھر دیکھ کر تسلی کی۔
"گبھراؤ نہیں کھل کے بتاؤ یہاں کوئی نہیں ہے۔ " وہ پھر سے گویا ہوئی۔
'میرا نام اجوا ہے اور م۔۔۔۔۔۔۔۔"
"اے لڑکی تو یہاں کیا کر رہی ہے وہ بھی اس وقت, تمہیں بتا ہے نا یہ وقت آرام کا ہوتا ہے کمروں سے باہر آنا منع ہے , جاؤ اپنے کمرے میں۔"
وہ بس اپنا نام ہی بتا پائی کہ کوریڈور میں ڈیوٹی پر موجود ایک موٹی عورت کی پھٹی ہوئی آواز گونجی وہ کانپ کر رہ گئ اس کی زبان جیسے تالو کے ساتھ چپک گئ تھی۔
وہ ایک لمحے کی بھی دیر کیے بنا وہاں سے بھاگ آئی ایک امید نظر آئی تھی وہ بھی ختم ہو گئ تو اس کا چہرہ افسردہ ہو گیا آنسو اس کے گال پھر سے بھگونے لگے جنہیں اس نے بے دردی سے رگڑ ڈالا۔
"اور آپ لوگ آئیں میرے ساتھ۔۔۔۔۔" اس کے جانے کی اچھی طرح تسلی کرنے کے بعد وہ عورت ان سے مخاطب ہوئی تو وہ لڑکی چونک گئ۔
"تمہیں نہیں لگتا وہ لڑکی مصیبت میں ہے, ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے ۔" آفس کی طرف بڑھتے ہوئے اس لڑکی نے ساتھ چلتے لڑکے سے کہا۔
"نہیں, ہم اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے پتہ نہیں کون ہے ایسے ہی بیٹھے بٹھائے ہم کسی مصیبت میں نہ پڑ جائیں اور یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہو آج تک اس عمارت کے بارے میں میں نے تو کچھ نہیں سنا پڑھا۔" وہ لڑکا رسانیت سے بولا۔
"نہیں میں نہیں مانتی کچھ تو گڑ بڑ ہے آپ نے اس لڑکی کا چہرہ نہیں دیکھا وہ ہمیں کچھ بتانا چاہتی تھی۔"
"میں نے کہا نہ ہم اس معاملے سے دور رہیں گے کوئی بھی مشکل کھڑی ہو سکتی ہے یہ بہت بڑا ,پرانا اور جانا مانا عاشرم ہے تم کچھ نہیں جانتی اس لیے چپ رہو۔"
لڑکے نے قدرے سختی سے کہا تو وہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئ۔ آفس آنے پر وہ دونوں خاموش ہو گئے۔
🌹🌹🌹🌹🌹
وہ پہاڑی پر دونوں ٹانگیں نیچے لٹکائے نجانے کب سے تنہا بیٹھا تھا۔ تاحدِ نگاہ بس پہاڑ ہی پہاڑ نظر آ رہے تھے۔ پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اٹھا کر وہ نیچے پھینکنے لگا پھر جلد ہی اس عمل سے اکتا گیا۔ اوپر دور نیلے فلک پر بادلوں میں اڑتے شاہین کو وہ سر اوپر کیے بڑی دلچسپی سے دیکھنے لگا دفعتاً اس کا موبائل فون بج اٹھا۔
"یس شاہ یار اسپیکنگ ! " فون کان کے ساتھ لگا کر وہ اپنے مخصوص خوبصورت لب و لہجے میں بولا۔
"یس سر, اوکے سر۔۔۔تھینک یو سر!"
رابطہ منقطع ہو چکا تھا۔ اس نے سیل فون پینٹ کی اوپری جیب میں ڈالا اور تقریباً بھاگتا ہوا پہاڑی سے نیچے اترا ۔ اسے آج بہت بڑی خوشخبری ملی تھی خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔ بات ہی ایسی تھی کچھ دن پہلے اس نے ایس ایس جی کمانڈو ( SSG COMANDO ) کے لیے اپلائی کیا تھا اور آج اسے انڑویو کے لیے کال آ گئ تھی۔
ان چالیس سولجرز کی لسٹ میں اس کا نام بھی آسکتا تھا اسے تو یقین نہیں آ رہا تھا۔ اب وہ یہ خوشی شیئر کرنے اپنی ٹیم, اپنے دوستوں کے پاس جا رہا تھا۔
🌹🌹🌹🌹🌹
(ثمال۔۔۔۔۔۔۔۔۔آدم بیزار لڑکی)
"ثمو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے ثمو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں یہ لڑکی کہاں مر گئ ہے؟" دوہری بار آواز لگانے پر بھی جب جواب نہ ملا تو ہمیشہ کی طرح جلد باز شمیم آراء غصے سے بڑبڑائیں, وہ ابھی تیسری بار پکارنے کا سوچ ہی رہی تھیں جب کچن سے کسی بوتل کے جن کی طرح وہ دوپٹا سر پہ جماتی نمودار ہوئی, چہرے پر زمانے بھر کی اکتاہٹ واضح جھلک رہی تھی۔
"جی اماں! آپ نے مجھے بلایا؟"
"نہیں, نہیں میں تو دیواروں سے باتیں کر رہی تھی۔" اس کے یوں پوچھنے پر اماں جی کے ماتھے پر اچھی خاصی تیوری چڑھی۔ جواباً وہ خاموش رہی۔
"تیرے ابا کی تسبیح نہیں مل رہی, پتہ نہیں بھلکڑ آدمی کہاں رکھ کے بھول گیا ہے؟ جا,جا کر ڈھونڈ دے۔"
وہ حکم صادر کر کے صنیر کی طرف بڑھ گئیں جو ابھی ابھی سو کر اٹھا تھا۔
وہ ٹھنڈی سانس بھرتی ابا کے کمرے کی طرف چلی آئی۔ تسبیح اسے جلد ہی مل گئ تھی۔ پھر دوبارہ کچن میں آئی تو سنک میں پڑا گندے برتنوں کا ڈھیر اس کا منہ چڑا رہا تھا, برتن دھو کر وہ کچن کی صفائی ستھرائی میں لگ گئ ۔
ابھی وہ صنیر کے لیے ناشتا بنانے کا سوچ ہی رہی تھی جب اماں کی بھاری بھرکم آواز آنگن میں پھر سے گونجی۔
"ثمو۔۔۔۔۔۔۔نی ثمو۔۔۔۔۔کبھی وقت پر سن بھی لیا کر۔۔۔۔۔دیکھ نہیں رہی کتنا تندور کی طرح پانی گرم ہے میرا پتر کیسے ہاتھ منہ دھو پائے گا, چل جلدی سے موٹر چلا تاکہ ٹینکی میں ٹھنڈا ٹھار پانی آئے۔"
وہ اپنے غصے پہ بمشکل قابو پاتی باہر آئی۔ ایک کوفت بھری گھوری واش بیسن کے پاس کھڑے ان ماں بیٹے پر ڈالی , جہاں ماں اپنے پتر پہ صدقے واری جا رہی تھی اور دوسری نظر آنگن کے بیچوں بیچ لگے گھنے پیڑ کے نیچے بچھی بان کی چارپائیوں پر بیٹھیں اپنے اپنے شغل میں مصروفِ عمل نظر آتیں بہنوں پہ ڈالی۔ "(نواب زادیاں کہیں کی) " وہ زیر لب بڑبڑائی اور موٹر چلا کر دوبارہ سے کچن میں گھس گئ۔
🌹🌹🌹🌹🌹
ڈاکٹر شاہویر شاہد ( رومینٹک , روڈ, حسن پرست)
وہ جس وقت ہاسپٹل کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا تو ہسپتال مریضوں سے کچھا کچھ بھرا ہوا تھا۔ اس نے کلائی پہ بندھی براؤن کلر کی گھڑی پر وقت دیکھا جو صبح کے دس بجا رہا تھا مطلب اسے پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔
وہ بڑے اطمینان اور وقار سے چلتا اپنے آفس میں داخل ہوا۔ آفس وسیع اور کشادہ ہونے کے باوجود اسے گرمی کا احساس ہو رہا تھا ۔
"علی! اے سی کی کولنگ بڑھا دو ذرا۔۔۔۔۔۔"
اس نے ڈیوٹی پہ موجود لڑکے کو پکارا اور براؤن کوٹ اتار کر کرسی کی پشت پر ٹکا کر ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا کرسی پر نیم دراز ہو گیا۔ ایک پل کے لیے آنکھیں موند کر اے سی کی ٹھنڈک کو اپنے اندر اتار کر خود کو جیسے پر سکون کیا۔
"پریشے! آج یکم مئ ہے سر کی ٹیبل پر جو کیلنڈر پڑا ہے اس کا پیج آگے کر دو لیکن ذرا احتیاط سے ٹھیک ہے۔" علی بعجلت کہتا باہر کی طرف بڑھا کہ مریضوں کی ایک لمبی قطار انتظار میں کھڑی تھی۔
وہ سر ہلاتی ٹیبل کے پاس آ گئ۔
"ہوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پریشے نام تو بڑا پیارا ہے۔" شاہویر نے نام سنتے ہی پٹ سے آنکھیں کھولیں لیکن کھولنے کے بعد اسے افسوس ہوا کہ نہ ہی کھولتا کیونکہ اس کی میز کی دوسری طرف جو دھان پان سی لڑکی کھڑی تھی اس کی رنگت سانولی نہیں بلکہ گہری سانولی تھی۔ وہ جی بھر کے بد مزا ہوا۔ اس کے تصور میں تو کوئی حسینہ ٹائپ کی لڑکی کا عکس لہرایا تھا۔
اس کا ہاتھ فوراً انٹرکام کی طرف بڑھا۔
علی برق رفتاری سے اندر داخل ہوا۔
"سس سر! کیا ہوا؟" علی نے ہکلا کر پوچھا اور کن اکھیوں سے ایک گھوری پریشے پر ڈالی ۔ اسے لگا شاید پریشے نے اس کی غیر موجودگی میں کوئی گڑبڑ کر دی ہو۔
"فیضان کو ابھی کے ابھی ادھر بھیجو اوکے۔۔۔۔!" شاہویر نے بےرخی سے اپنے اسسٹنٹ کا نام لیا۔
علی احتراماً اثبات میں سر ہلاتا باہر کی طرف بھاگا۔
لڑکی ناسمجھی کے عالم میں ہکا بکا یہ سب دیکھ رہی تھی۔
"سر! آل از رائٹ؟"
"نو! یہ سب کیا ہے؟" شاہویر نے لڑکی کی طرف اشارہ کیا تو فیضان نے بھی چونک کر پریشے کی طرف دیکھا اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اس نے بے ساختہ اپنی آنکھیں میچ کر کھولیں۔
"ایم رئیلی ویری سوری سر! آج اجالا ایمرجنسی لیو پر ہے اس لیے یہ فری تھی تو اس کی ڈیوٹی لگا دی۔۔۔ "
اس کا سر جھکا ہوا تھا جبکہ مارے توہین کے پریشے کا ایک رنگ آ رہا تھا ,ایک جا رہا تھا۔
"فیضان! بہتر ہے کہ تم ایک بار پھر نرسنگ کے لیے جوائن کرنے والی انسٹرکشنز دوبارہ سے پڑھ کو تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ اب تم لوگ جا سکتے ہو یہاں سے۔" شاہویر نے ہاتھ اٹھا کر برہمی سے کہا اور سامنے پڑے لیپ ٹاپ کو کھول لیا۔
"اور علی مریضوں کو ون بائی ون اندر بھیجنا شروع کرو بہت وقت برباد ہو گیا ہے۔"
"سر! آئندہ آپ کو کوئی شکایت نہیں ملے گی ۔ "
"ہوپ سو۔۔۔۔۔"
سر کا جواب سن کر اس نے پریشے کو اشارے سے باہر آنے کا کہا اور خود بھی باہر نکل گیا۔
"پتہ نہیں لوگ سوچ سمجھ کر نام کیوں نہیں رکھتے ۔"
دروازے کی دہلیز پار کرنے سے پہلے وہ سر کی سرگوشی سن چکی تھی۔ وہ چاہ کر بھی اپنے آنسو نہیں روک سکی ۔ دنیا میں اسیے بھی گھمنڈی انسان پائے جاتے ہیں اسے تو آج اندازہ ہوا تھا۔ اس کی رنگت سانولی تھی تو اس میں اس کا کیا قصور تھا بنانے والی ذات نے اسے ایسا بنا دیا تو لوگ پھر کیوں اسے تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔
وہ سیدھی کاؤنٹر پر گئ اور ہینڈ بیگ اٹھا کر باہر کی طرف بڑھ گئ۔
"ہیلو۔۔۔۔۔۔پریشے ! لسن ٹو می پلیز۔۔۔۔۔۔۔ایم سو سوری مجھے اندازہ ہوتا تو کبھی ادھر نہ بھیجتا۔۔۔۔" وہ تیزی سےاس کے آگے آ کر ازحد شرمندگی سے بولا۔
"جب آپ کو اپنے باس کا پتہ تھا مجھے کیوں بھیج کر ذلیل کروایا وہ ہوتا کون ہے میری اس طرح تذلیل کرنے والا , سوری ٹو سے دیٹ میں اب یہاں ایک منٹ بھی رکنا پسند نہیں کروں گی ۔ مجھے جابز کی کمی نہیں ہے بائے!" وہ دانت پیس کر دوٹوک سناتی وہاں سے چلی گئ۔
فیضان اسے روکتا رہ گیا کہ وہ بہت محنتی اور اچھی لڑکی تھی۔
🌹🌹🌹🌹🌹
وہ صوفے پہ نیم دراز کشن سر کے نیچے رکھے موبائل فون پر مصروف تھی۔ تھوڑی دیر اپنی پسندیدہ گیم کھیلنے کے بعد اس نے فیسبک لاگ ان کی۔ نوٹیفیکیشن چیک کرنے کے بعد اس نے گروپس کا راؤنڈ لگایا ایک گروپ کی پوسٹنگ ابھی وہ دیکھ ہی رہی تھی جب سجیشن رو میں اسے "فرینڈز لائک آ فیملی " شو ہوا۔ وہ پہلے ہی بوریت کا شکار تھی وقت گزاری کے لیے اسے اوپن کیا اور ایڈ ہونے کے لیے ریکوسٹ بھیج دی۔ اس کی ریکوسٹ جلد ہی ایکسیپٹ ہو گئ اسے انجانی سی خوشی ہوئی۔ یہ گروپ کافی بڑا اور میمبر بہت ایکٹیو لگ رہے تھے ایک ایک پوسٹ پر ہزاروں کمنٹس اور لائکس موجود تھے۔
اس نے بھی " آئم نیو ہئیر " لکھ کر پوسٹ ڈال دی۔
"موسٹ ویلکم ہئیر" پہلا کمنٹ آیا اس نے صرف لائک کیا۔ یہ آئی ڈی کسی "عافین راجپوت " کی تھی اسے دلچسپ سی لگی اس نے اسے کھول کر اس کی پوسٹنگ چیک کرنی شروع کر دی, ڈی پی سٹرینج ٹائپ لگی اور پوسٹنگ موسٹلی اسلامی یا سوشل میڈیا پر مبنی تھی مطلب اس کا پورا ریئل بائیو ڈیٹا ہائیڈ تھا اس نے کندھے اچکا کر بیک کر دیا۔
پھر اس کی روٹین بن گئ تھی وہ جیسے ہی باقی کاموں سے فارغ ہوتی آنلائن آ جاتی اور پوسٹنگ کر دیتی اسے اس گروپ میں بہت اچھا رسپانس ملا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ بھی پراپر گروپ کو وقت دے رہی تھی اب تو وہ گروپ میں بہترین پوسٹنگ کرنے والی میمبر بن چکی تھی اسی دوران اس کی دو بہت اچھی دوستیں بن گئیں ماہین قیص اور تہمینہ گلریز ۔
اس گروپ کا ایک ایڈمن جو کہ بعد میں اسے پتہ چلا تھا کہ عافین راجپوت جو اس کی ہر پوسٹ پہ سب سے پہلے کمنٹ کرنا اپنا فرضِ اول سمجھتا تھا وہی اصل میں اس گروپ کا ایڈمن تھا اور
دو موڈریٹر تھے ایک گرل اور ایک بوائے ۔ بوائے جس کا نام سمیر چوہدری تھا وہ ماہین کو پسند کرتا تھا اور ماہین بھی اسے چاہنے لگی تھی جبکہ یہ بات جب تہمینہ اور جیسمین کے علم میں آئی تو ان دونوں نے ماہین کی اچھی خاصی کلاس لے ڈالی۔ ان دونوں کے سمیر چوہدری ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا وہ ایک نمبر کا دل پھینک لڑکا تھا یہی بات وہ دونوں ماہین کو جھا سمجھا کر تھک گئ تھیں لیکن ماہین کا نہ تو اعتبار ٹوٹا اور نہ پیار میں کمی آئی وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں تھی کہ سمیر اسے چیٹ کر سکتا ہے۔ اب جیسمین پرور اور تہمینہ گلریز کا ایک ہی مشن ہی تھا اس فلرٹی لڑکے کی اصلیت ماہین کے سامنے لا کر اپنی دوست کو اس کے چنگل سے نکالنا۔
دوسری طرف ماہ پری جو اس گروپ کی موڈریٹر ہونے کے ساتھ ساتھ مسٹر عافین راجپوت کی نہ صرف دوست تھی بلکہ اس پر بری طرح سے عاشق بھی تھی۔ اب عافین ماہ پری کو صرف دوست سمجھتا تھا یا اس سے آگے بھی کچھ تھا اس کی کھوج ابھی تہمینہ اور جیسمین دونوں کو تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🥀🥀🥀🥀

 

0 Comments