یہ لندن کے ایک لگزری ہوٹل کا منظر تھا جہاں کے کشادہ فلیٹ میں ہر سہولت میسر تھی وہیں اس فلیٹ کے ایک کمرے میں وہ وجود دُنیا و مافیہا سے بیگانہ اپنی نیند کے مزے لینے میں مصروف تھا
گھڑی کا الارم چیخ چیخ کر دہائی دی رہا تھا
اور مجال ہے جو مخالف پر اسکی چیخ و پکار کا ذرا سا بھی اثر ہوا ہو
گھڑی کے مُسلسل بجتے الارم سے اسکی نیند میں ذرا سا خلل پیدا ہوا اور اگلے ہی لمحے وہ گھڑی ٹوٹی بکھری حالت میں فرش پر پڑی ایک دو جھٹکے لی کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چُکی تھی
پانچ منٹ بعد کلک کے ساتھ ساتھ کسی نے روم کا دروازہ کھولا اور قدم بیڈ پر سوئے ہوۓ وجود کی طرف بڑھائے
اور بلکل اسکے کان کے قریب جا کر زور سے چیخ ماری خرم مغل جو کے نیند میں خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا ہڑبڑا کر اٹھا اور نیند سے سرخ ھوتی آنکھوں سے سامنے سہیل خان کون دیکھا اور پوچھا
کیا ہوا
صبح ہو گئی میری جان سہیل خان نے آنکھوں میں دنیا جہان کی معصومیت لے کر بتایا
اور خرم جسے لگا تھا کہ پتہ نہی کِتنی بڑی مصیبت آ گئی ہو گی جو اُسے یوں اٹھا یا اس کی یہ بات سن کر دماغ بھک سے اڑ گیا
کیا





تم نے مجھے صرف اس لیئے اٹھایا کہ صبح ہو گئی
ہا ں نہ اسی لیئے اٹھایا اسی معصومیت سے اس بار بھی جواب موصول ہوا
تو رک سالے تُجھے میں ابھی بتاتا ہوں یہ کہتے ہی خرم نے اس پر جھپٹا لیکن وہ سہیل ھی کیا جو کسی کی پکڑ میں آ جائے بجلی کی تیزی سے وہ بوتل کے جن کی طرح وہاں سے غائب ہو چکا تھا
اور کمرے کے باہر سے ہانک لگائی
اچھا سن یار آنٹی کا فون آیا تھا اسے تُجھ سے کوئی ضروری بات کرنی تھی گیارا بجے انکا فون آئے گا سن لینا
اُسکی یہ بات سن کر خرم نے ایک لمبا سانس خارج کیا
اور صوفہ پر گرتے ھی اپنا سر صوفے کی پچھلی طرف گرایا اور لمبا سانس کھینچتی ہوئے بولا
میں جانتا ہوں انکو کیا بات کرنی ہے مُجھ سے
سہیل خان اسکی اس بات پر چُپ ہو گیا کیوں کہ وہ بھی اچھے سے جانتا تھا کہ نایاب بیگم کو خرم سے کیا بات کرنی ہے
بچپن سے وہ اسے جانتا تھا اسکول کی دوستی تو صرف بولنے کے لیے تھی حقیقت میں وہ اسے بھائیوں سے زیادہ عزیز تھا
جس کے لیے اگر اسے کبھی موقعہ ملتا تو وہ اپنی جان دینے سے بھی گُریز نہی کرتا
اور دوسری طرف خرم کا بھی حال کُچھ اس سے الگ نہی تھا وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھا اور اسی لیئے ماں باپ کے بعد اسکا سب کچھ وہی تھا
سہیل کُچھ سوچتے ہوئے قدم قدم چلتا اس کے سامنے والے صوفے پر آ بیٹھا اور دو منٹ اسکی چہرے کو پرسوچ نظریں سے دیکھتے ہوئے گویا ہوا
دیکھو خرم اب ٹائم نہی ہے تمہارے پاس اب تم کو جلد کوئی فیصلہ کرنا ہو گا
جو لڑکی بچپن سے تمھاری منگ ہے تم کو اپنے ماں باپ کا فیصلہ مانتے ہوئے اس سے شادی کرنی ہے یا مسکان سے شادی کرنی ہے جسے تم پسند کرتے ہو
اور ہاں جلدی سے فریش ہو جاؤ میں ناشتا لگاتا ہوں پھر تمھاری وہ بےبی شونا بولنے والی آ جائے گی
سہیل کی اس بات پر خرم کے چہرے کو ہلکی سے مسکان نے چھوا
ہممم ٹھیک ہے مسٹر اوسم کوک جلدی سے میرا بریک فاسٹ ریڈی کرو میں آتا ہے فریش ہو کر ۔
خرم کے اسے کوک بولنے پر سہیل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی مطلب اگر وہ اس کے لیئے کھانا بناتا تھا اسکا خیال رکھتا تھا تو کیا وہ کوک ہو گیا سہیل نے صدمے سے اُسکی طرف دیکھا پر تب تک وہ ایک شرارتی مسکراہٹ پاس کرتی ہوئے فریش ہونے جا چکا تھا
کوئی بات نہی بچہ تم سے میں سارا حساب کتاب کر لوں گا دل میں اسے سبق سیکھانے کا پکا ارادہ کرتے ہوئے وہ ایک بار پھر کچن کی طرف بڑھ گیا۔
لونگ وہائٹ سکرٹ پر سلیو لیس لال شرٹ پہنے جس میں اُسکی دودھیا رنگ کے بازو اور نمایاں ہو رہے تھے پاؤں من میں لال ہائی ہیل پہنے کانوں میں لال ٹاپس اور ایک ہاتھ میں گھڑی اور دوسرے میں نفیس سا بریسلیٹ پہنے ہاتھوں میں کلچ اٹھائے
اس نے ہوٹل میں قدم رکھا اور ایک طائرانہ نظر چاروں طرف ڈال کر اسکے قدم لفٹ کی جانب بڑھے لفٹ میں داخل ہونے کے بعد اسنے فورتھ فلور کا بٹن پریس کیا اور اپنے موبائیل کی طرف متوجہ ہوئی جہاں خرم مغل کے لاتعداد میسیجز نے اسکی نظروں کا استقبال کیا
اپنے مطلوبہ فلیٹ پر پہنچ کر اس نے ڈور بیل کا بٹن پریس کیا اور پہلی فرصت میں دروازہ کھل چکا تھا
سہیل نے ایک تنفیدی نظر سے اسکا جائزہ لیا یہ لڑکی اُسے ہمیشہ سے مشکوک لگتی تھی پر اسکا دوست اُسے پسند کرتا تھا سو وہ چُپ تھا اسے اندر آنے کے لیۓ راستہ دیا
خرم میں کُچھ کام سے باہر جا رہا ہوں تھوڑی دیر میں واپس آتا ہوں سہیل اونچی آواز میں خرم کو باخبر کرتا ہوا فلیٹ سے کا چکا تھا
وہ جو چُپ کر کے یہ ساری کارروائی دیکھ رہی تھی خرم کے آتے ہی اُسکی طرف متوجہ ہوئی اور عین اسکے مقابل آ کر اپنا کلچ ٹیبل پر رکھا اور دونوں ہاتھ اسکے شانوں پر رکھ کر آہستہ آہستہ گردن کے پیچھے لے گئی کیا ہوا آج خود میسج کر کے مُجھے بلایا ہے اور یہ چہرے پر بارہ کیوں بجے ہیں
ہممم خرم نے مسکراتے ہوئے ایک ہاتھ اُسکی کمر پر رکھا اور دوسری ہاتھ سے اسکے آگے آتے بالوں کو پیچھے کیا
اور پھر دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھ کر ہلکا سا جھٹکا دے کر اسے اپنے اور قریب کیا
یوں ہی آج میں پاکستان جا رہا ہوں تو سوچا تم سے ملتا جاؤں
اسکے پاکستان جانے کی خبر سنتے ھی مسکان کو ایک ذبرست جھٹکا لگا اور وہ خرم سے دو قدم دور ہوئی
لہجے میں بے یقینی اور آنکھیں میں حیرت لیئے اسنے سرزنش کرنی والی نظروں سے خرم کی طرف دیکھا
جو کہ لب بھینچے اس کے ردِ عمل کے لیئے تیار کھڑا تھا
اوہ تو تم پاکستان جا رہے ہو مجھے اب بتا رہے ہو اب بھی نہیں بتانا تھا سیدھا پاکستان جا کر بتانا تھا مسکان تم میرے فلیٹ میں نہیں آنا میں اب پاکستان میں ہوں
اپنی بات مکمل کرتے ھی وہ اپنا رخ دوسری جانب کے گئی
خرم نے کچھ لمحے اُسے ایسے ھی دیکھتے گزارے پھر ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی طرف کھینچا ایک ہاتھ سے اسکی کمر کو مضبوطی سے پکڑا اور دوسرا ہاتھ اسکی گال پر رکھا جسے اسنے بیدری سے جھٹک دیا اور کُچھ بولنے کے لیئے لب وا کیئے ھی تھے کہ خرم نے اسکے لبوں پر شہادت کی انگلی رکھتے ہوئے تنبیہ کرتی نگاہوں سے اُسے بولنے سے منع کیا
ششش چُپ میری بات سنو
میں وہاں ہمارے لیئے جا رہا ہوں مما اور پاپا کو ہماری شادی کے لیئے منانے جا رہا ہوں
پر اگر تم مجھے وہاں جا کر بھول گئے آنکھوں میں معصومیت لہجے میں شکوہ لیئے اسکے دل کا ڈر لبوں پر آ گیا
اوہ ہاں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں اگر وہاں کوئی مجھے خوبصورت معصوم سی لڑکی مل گئی پھر تو مجھے سوچنا پڑے گا
آنکھوں میں شرارت سموئے اس نے ماحول کے تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کی اور کچھ حد تک وہ کامیاب بھی ہوا
اسکی اس بات پر مسکان کی آنکھیں حیرت سے پھیل گی اور گلابی لب ہلکے سے کھل گئے
اسکے لبوں کی اس حرکت کو خرم نے بہت غور سے محسوس کیا اور دل میں انکو چھونے کی خواہش ابھری
دل کی خواہش پر لبیک کہتے ہوے وہ اسکے لبوں کو چھونے کے لیئے جھکا ہے تھا کہ مسکان نے اسکے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھا
اور ایک غصیلی نظر اس پر ڈال کر بولی کیا بولا ابھی تم نے
اسکی نظروں کا مفہوم سمجھتے ہوے اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ چلایا اور الٹا اسی سے سوال کیا
ہاں تو سچ ہی تو ہے اگر کوئی معصوم لڑکی مل گئی تو مجھے........
سوچنا بھی مت اسکی بات کو بیچ میں ھی کاٹتے ہوئے انگلی اٹھا کر وہ تنبیہ کرتی نظروں سے گویا ہوئی
خرم نے ایک نظر اسکے غصّے سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا اور دوسری نظر سے اپنی طرف اٹھی اس انگلی کو دیکھا
اور پھر جھک کر اس انگلی کو اپنے دانتوں سے کاٹا
آہ یہ کیا جنگلی پن ہے مسکان نے غصے سے اُسے دیکھا اور پھونک مار کر اپنی انگلی سہلانے لگی
یہ تمھاری سزا ہے سب کچھ جانتے ہوۓ بھی مجھ پر انگلی اٹھانے کی
کیوں یہ سزا پسند نہی آئی
ویسے میرے پاس اور بھی بہت طریقے کی سزائیں ہیں آنکھوں میں خمار لیئے وہ اسکے لبوں کو فوکس میں لیتے ہوئے بولا
اسکی یہ خماری دیکھتے ہوئے مسکان کے دل میں ہزاروں پھول کھل گئے یہی تو وہ چاہتی تھی کہ خرم اسکے پیار میں دیوانہ ہو جائے ایک معنی خیز مسکراہٹ نے مسکان کے لبوں کا احاطہ کیا جسے اگر خرم دیکھ لیتا تو شاید بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا پر وہ اس وقت اِن کمزور لمحوں کی زد میں تھا
مسکان نے اس کی گرفت سے نکل کر دو قدم پیچھے لیئے مجھے سزا دینا اتنا بھی آسان نہیں لہجے میں کھلا چیلنج تھا خرم نے ایک آئی برو اوپر چڑھا کر اُسے دیکھا
اور جیسے ہی اسے دوبارہ اپنے قریب لانے کے لیئے ہاتھ بڑھایا وہ بھاگ کر صوفے کے پیچھے ہوئی خرم نے اُسکی بات کو سمجھتے ہوئے اپنے مسکراتے لب بھینچتے ہوئے جسے ھی اِس تک پہنچے کی کوشش کی اسکا ارادہ سمجھتے ہی مسکان نے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی اسکی پیش قدمی کرتے ہوئے خرم نے بھی اپنے قدم دروازے کی سمت بڑھا دیئے
وہ جو کمرے میں آ کر ادھر اُدھر چھپنے کی جگہ ڈھونڈ رہی تھی اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز پر چونک کر پیچھے دیکھا تو خرم آنکھوں میں شرارت لیئے اُسے ہی دیکھ رہا تھا اور جسے ھی اسنے بھاگنے کی دوبارہ کوشش کی خرم ایک ہی جست میں اس تک پہنچا اور بیلنس برقرار نہ رکھتے ہوئے دونوں بیڈ پر گرے اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی خرم نے فوراً سے کروٹ لے کر اُسے نیچے کیا اور خود اس پر پورا قابض ہو گیا
اسکے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیا بولا تم نے ۔
ویسے تم نے ابھی میرا محبت کرنے والا روپ دیکھا ہے بدلہ لینے والا نہی اور جہاں تک بات ہے مشکل اور آسان کی تو خرم مغل کے لیئے کُچھ مُشکِل نہی
کُچھ بھی نہی
اپنی آنکھیں اُسکی آنکھوں میں گاڑ کر بتایا اور لہجے کی مضبوطی ایک ایک لفظ کی سچائی چیخ چیخ کر بیاں کر رہی تھی
مسکان کے دل میں ایک پل خوف نے ڈیرہ ڈالا پر دوسرے ھی لمحے وہ کھلکھلا کر ہنس دی اور اسکی گردن میں بانہیں ڈال کر اپنا چہرے اس کے چہرے کے قریب تر کیا
اور پھر خمار آلود لہجے میں گویا ہوئی
تو پھر دو مجھے اپنے کیئے کی سزا
خرم نے اسکی پیش قدمی کو قبول کیا اور اپنے لب اس کے لبوں سے الجھا دیئے اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور حد پار کرتا موبائیل فون کی رنگ ٹون نے اُسکی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی پاپا کالنگ دیکھ کر اسکا سارا خمار چھو منتر ہو گیا
اس نے سیکنڈ سے پہلے کال اٹھا موبائل کان سے لگایا اور مسکان کو ایک سائیڈ کرتا ہوا خود کھڑکی میں جا کر کھڑا ہو گیا ہیلو پاپا
اسلام علیکم
وعلیم اسلام موبائل سے کھنکتی ہوئے آوازà سن کر خرم نے ایک بار اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو اور پھر کال آنے والے نمبر کو غور سے دیکھا کہ کہیں اس سے غلطی تو نہی ہوگئی نمبر پہچاننے میں
پر نہی نمبر تو اس کے پاپا کا ھی تھا
تب ہی وہ آواز موبائل اسپیکر سے دوبارہ ابھری
ہاں تو میں نے ہے پوچھنے کے لیئے فون کیا ہے کہ تایا ابو نے آپ کو پاکستان آنے کا بولا تھا تو آپ نے کوئی جواب نہیں دیا
تو پھر میں آپکی نہ ہی سمجھوں
اس نے اپنی لمبی آنکھیں کو تھوڑا کھول کر ایسے سوال کیا جسے وہ ابھی اس کے سامنے ہو
ایکسکیوز می
میں آپکو جواب دینے کا پابند نہی ہوں جتاتے لہجے میں کہا گیا
پر مقابل بھی کوئی ڈھیٹ تھی
اچھا ایسی بات ہے پر آپکو یہ خوش فہمی کیوں ہوئی کہ میں نے آپ سے جواب مانگنے کے لیئے فون کیا ہے
خرم کو ایک پل کے لیئے حیرت نے آن گھیرا کہ آخر پھر اس لڑکی نے مجھے فون کیوں کیا
لہجے میں تھوڑا روعب پیدا کر کے سخت لہجے میں پوچھا پھر کیوں کیا مجھے فون تم نے
بس اسی وجہ سے کہ میں آپ کے واپس نہ آنے کی خوشخبری سب سے پہلے سن لوں
خرم نے اپنی ایک آئی برو اٹھائی
سنو میرا وقت برباد نہی کرو فضول گوئی کر کے میں ابھی بزی ہوں
اور فون رکھو
اوہ اچھا ہماری معصوم خواہشیں آپکو اپنا وقت برباد لگتی ہیں ہم اچھی سے جانتے ہیں آپکو کیوں ہم وقت برباد لگ رہے ہیں اور یہ بھی اچھے سے جانتے ہیں کے آپ کہاں بزی ہیں
اوہ اچھا تو بتاؤ میں کہاں بزی ہوں بس رہنے دیں
آگے سے احسان کرنے والے انداز میں جب جواب موصول ہوا تو خرم کا دماغ بھنّا اٹھا آخر وہ لڑکی خود کو سمجھتی کیا تھی
نہی اب تم مجھے بتاؤ کہ میں کہاں بزی ہوں
اپنے غصّے کو کم کرنے کے لیئے اس نے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا اور لبوں سے لگایا
اچھا تو بتا دیں آپ کہاں بزی ہیں
ہممم بتاؤ
آپ اس وقت کسی گوری کے ساتھ گلچھرے اوڑا رہے ہیں۔ تب ہی ھی خرم کے منہ سے پانی کا فوارہ چھوٹا اور اس نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی
پر وہ آفت کی پرکالہ تو کہیں نہی تھی کوئی سخت جواب دینے کے لیئے اس نے لب وا کیئے ھی تھی کہ ٹوں ٹون ٹون کی آواز کے ساتھ کال ڈسکنیکٹ ہونے کی آواز آئی اور اس نے لب بیچ کر ایک نظر موبائل کو دیکھا پھر اسکی نظر سامنے کھڑی مسکان پر گئی جو لبوں پر مصنوئی مسکراہٹ لیئے اسے ھی دیکھ رہی تھی
خرم قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا
اور اسکے ماتھے پر لب رکھ کر پیچھے ہوا بہت جلد تم کو یہاں سے لے جاؤں گا
جاری ہے...........................................

0 Comments