Hijran Yarran by bismala zahid

 Hijran Yarran by  bismala zahid

قسط نمبر 1۔
اوائل دسمبر کی سرد ،ٹھٹھرتی ہوئی دهند کی تہہ میں لپٹی وہ سیاہ رات عام دنوں کی نسبت زیادہ تاریک معلوم ہوتی تھی ۔آسمان سے اترتی خنکی بھری سیاہی میں وہ سرمئی تارکول کی لمبی و سنسان سڑک بھیانک سی لگتی تھی ۔ایسے میں دور سے کوئی اندھا دھند بھاگتا ہوا آتا دکھائی دیتا تھا ۔دهند کے باعث وہ عکس واضح نہیں تھا ۔کچھ قریب آنے پر دهندلا پن کچھ کم ہوا اور منظر پہلے سے بہتر دکھائی دیا ۔وہ نو عمر سا لمبا دبلا پتلا سا لڑکا ہے ۔پھولی سانسوں کے ساتھ وہ اندھا دھند بھاگ رہا تھا ایسی حالت میں کہ اس کے پاؤں میں جوتے تک نہیں ہیں ۔سڑک کی پتھریلی سطح پر کہیں کہیں ابھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے کنکر اسکے پاؤں میں چھبن کا احساس پیدا کرتے ہیں ۔وہ ذرا بھر لڑکھڑاتا ہے اور اگلے ہی لمحے ذرا رک کر غیر ہوتے تنفس کے ساتھ پھر سے تیزی سے بھاگنے لگتا ہے ۔
اسکے چہرے کے خدوخال غیر واضح سے ہیں ۔بھاگتے ہوئے وہ بار بار دونوں ہاتھوں سے اپنا گیلاچہرہ صاف کرتا جاتا ہے ۔کچھ آگے جا کر موڑ کاٹتے وہ کسی سے بری طرح ٹکراتا ہے ۔اس تیز رفتاری کے باعث وہ کچھ قدم پیچھے کی جانب گرتا ہے ۔سامنے والے شخص نے اپنی غیر متوازن چال پر قابو پاتے آنکھیں چھوٹی کر کے غور سے اسکو دیکھا ۔ہاتھ میں پکڑے موبائل کی ٹارچ اسکے چہرے پر مارتے وہ جھکا، اسے بغور دیکھ رہا تھا جو اب اپنی کہنی کو سہلاتا ہوا چہرے پر تکلیف ده تاثرات لئے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔وہ جو کوئی بھی تھا دس گیارہ سال کا خوش لباس اور خوب صورت لڑکا تھا ۔چہرے پر آنسوؤں کے نشان ، خوف و ہراس کے گہرے سائے آنکھوں میں لئے وہ ٹارچ کی روشنی سے نظریں چرا رہا تھا ۔
"کون ۔۔۔ہو تم بیٹا ؟کہاں جا رہے ہو ؟"لہجے میں نرمی کا تاثر لئے آواز کی لڑکھڑاہت روکتے ارد گرد اک نگاہ ڈالے وہ شخص اسے اٹھ کر کھڑا ہونے میں اب مدد دے رہا تھا ۔بدلے میں اس لڑکے نے اسکا ہاتھ جھٹک کر خود اٹھنا چاہا تھا ۔
"گھر سے بھاگ کر آئے ہو ؟یا کہیں گم ہو گئے ہو ۔مجھے بتاؤ میں تمہاری مدد کرتا ہوں ۔"
ارد گرد سے مطمئین ہوتے اب وہ پوری طرح اس لڑکے پر توجہ کیے اس کے اور قریب کھڑا پوچھ رہا تھا ۔
"مجھے گھر جانا ہے ۔"تیز سانسوں کے درمیان رک کر وہ سرعت سے بولتا آگے بڑھنے کو تھا جب اس شخص نے اسکا بازو پکڑ کر اسے روکا ۔
"رکو ۔۔۔۔یہ راستہ آگے خطرناک ہے ۔آگے جنگل کا علاقہ ہے جنگلی جانور رات کو سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔تم میرے ساتھ آؤ میں تمہیں تمہارے گھر تک چھوڑ آتا ہوں ۔"اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھتے وہ کہہ رہا تھا ۔اس لڑکے نے ایک نظر سامنے دور تک پھیلے اندھیرے کو دیکھا تھا اگلے لمحے اس نے سر ہلا کر حامی بھر لی تھی ۔
"آ جاؤ میرے ساتھ ۔میرا گھر یہاں پاس ہی ہے ۔میرے پاس گاڑی بھی ہے میں تمہیں گاڑی پر چھوڑ آؤں گا ۔"
اسکا ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں جکڑے وہ شخص آگے بڑھ گیا تھا ۔ساتھ چلتے لڑکے کے پاؤں میں چھبے کنکر اب تکلیف کا احساس پیدا کرنے لگے تھے ۔
"تمہیں اپنے گھر کا راستہ معلوم تو ہوگا ؟کہاں رہتے ہو ؟"برق رفتاری سے آگے بڑھتے ساتھ ساتھ وہ اس سے سوال کرتا جاتا تھا جس کا وہ سنجیدگی سے بہت واضح جواب دے رہا تھا اس کا سانس اب پہلے سے ہموار تھا مگر پوری طرح متوازن نہیں ۔سوچ سمجھ کر بولتے اس نے اپنے گھر کا پورا پتہ سمجھایا تھا ۔۔موبائل ٹارچ کی پتلی سی لكیر میں راستہ کچھ واضح نظر آ رہا تھا ۔کچھ آگے جا کر اچانک سے اس شخص نے سڑک چھوڑ کر جھاڑیوں میں نیچے ڈھلوان کی جانب بڑھنا شروع کر دیا تھا ۔
"ہم کہاں جا رہے ہیں ؟"ارد گرد جھاڑیوں کے جھنڈ اور پاؤں میں چھبتی تیز نوکیلی سی شے پر وہ بول اٹھا تھا ۔
"تم آؤ تو سہی ۔یہاں سے ہم جلدی پہنچ جائیں گے ۔"پیچھے مڑ کر اسے پچکارا گیا تھا ۔اگلے ہی لمحے اسکی کلائی پر گرفت اور مضبوط کرتے وہ تقریباً اسے گهسیٹتا چلا گیا تھا ۔اس بار اسکے اسکے پاؤں میں کوئی کانٹا سا چھبا تھا ۔تکلیف بڑھی تھی ۔بے ساختہ وہ کراہا ۔
"آہ انکل ۔۔۔میرے پاؤں میں کچھ لگا ہے ۔"اسکی بھینچی ہوئی سی آواز میں درد کا احساس نماياں تھا ۔مگر دوسری جانب اسکی پکار کا کوئی مطلق اثر نہیں لیا گیا تھا ۔پہلی بار اس لڑکے کو کچھ برا ہو جانے کا احساس ہوا تھا ۔وہ چہرہ جہاں کچھ دیر پہلے تک ایک سہارا پا کر خوف و ہراس کا غلبہ کچھ کم ہوا تھا ۔ایک بار پھر شدید سراسیمگی کا شکار ہوتا چلا گیا ۔اپنی پوری قوت صرف کرتے اس نے اپنی کلائی اسکے ہاتھ سے آزاد کروائی تھی وہ شخص بھی شاید اسکی جانب سے ایسی کسی پیش رفت کی توقع نہیں کر رہا تھا اتنے زور دار جھٹکے پر ذرا برابر ڈگمگایا تھا اور اگلے ہی لمحے وہ لڑکا الٹے قدم پیچھے کی جانب بھاگا تھا ۔اونچی نیچی جگہ اور اندھیرے کے باعث جب تک وہ سنبهل کر پلٹا تھا وہ لڑکا اسکی پہنچ سے دور ہو چکا تھا ۔اسے ایک غیر اخلاقی گالی سے نوازتا وہ بھی شرافت و شفقت کا چولا اتار پهینكتا اسکے پیچھے خونخوار تیور لئے لپکا ۔پاؤں میں ہو رہی تکلیف کی وجہ سے وہ لڑکھڑا کر چل رہا تھا اس کے باوجود وہ اپنی پوری قوت کا استعمال کر رہا تھا ۔اپنے پیچھے کسی جنگلی بھیڑیے کی مانند تعاقب کرتے اس انسان نما شیطان کو گردن موڑ موڑ کر دیکھتے وہ آگے بڑھ رہا تھا جب اسکا پاؤں کہیں الجھا تھا ۔وہ منہ کے بل زمین پر گرا تھا ۔تب تک وہ شخص اس تک پہنچ چکا تھا ۔
"حرام کے پلے ۔۔۔کتنا بهگایا تو نے میرے کو ۔"پھولے ہوئے سانس کے درمیان وہ ایک ہاتھ پہلو پر جمائے دوسرے ہاتھ سے اسکے بالوں کو جکڑے زور سے جھٹکا دے رہا تھا ۔ہوس بھری نظروں سے اسے دیکھتے وہ آنکھوں میں شیطانیت اور ہونٹوں پر مکروہ ہنسی لئے اس کالی رات میں اپنے اندر کی سیاہ کاری سمیت کچھ اور بھی بھیانک لگتا تھا ۔قوم لوط میں بھی بچوں کا لحاظ کیا جاتا تھا مگر موجودہ انسان کی بے راہ روی کا عالَم یہ ہے کہ یہاں معصوم بچوں تک کو نہیں بخشا جاتا ۔اس کی بے رحم گرفت میں وہ چینخ رہا تھا ، چلا رہا تھا اس کے بھاری وجود کے نیچے دبے اس کے دبلے پتلے سے وجود کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں ۔اسکی چینخ و پکار پر اس شخص نے بے طره اسکی گردن دونوں ہاتھوں سے زور ڈالتے دبائی تھی جس سے آنسو سے لبریز اسکی آنکھیں باہر ی جانب جیسے ابل پڑی تھیں ۔اور شیطان ذرا دور کھڑا ابن آدم کی پستی پر مسرور ہو رہا تھا ۔
گھٹتے سانس کے ساتھ اپنے بچاؤ کے لئے اس نے آگے پیچھے ہاتھ مارا تھا جب اسکا کانپتا ہاتھ کسی سخت شے سے ٹکرایا تھا ۔ہاتھ روک کر ٹٹولا ۔وہ ایک درمیانے سائز کا پتھر تھا ۔بنا سوچے سمجھے اس نے وہ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں پکڑتے پوری شدت سے خود پر جھکے اس شخص کے سر پر دے مارا تھا ۔وہ جو اپنے مکروه فعل میں مست و مسرور سا مگن تھا اس اچانک ہوئے حملے پر چینخ کر پیچھے ہٹا تھا ۔اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں پکڑے وہ زمین پر درد سے دہرا ہو رہا تھا ۔اس لڑکے نے ایک ہی ضرب پر بس نہیں کی تھی ۔وہ تیر کی تیزی سے اٹھ کر بیٹھا تھا اور پھر پے در پے کہیں وار اسکے سر پر کیے تھے یہاں تک کہ اسے سنبھلنے اور اپنے دفاع تک کرنے کا موقع نہیں ملا تھا ۔پتہ نہیں اتنی قوت اتنا غصہ اس کے اندر کہاں سے آ گیا تھا کسی سانپ کی مانند اس نے اس شخص کا سر کچل ڈالا تھا ۔پہلے تو وہ تکلیف سے كراهتا رہا تھا ۔پھر وہ بالکل خاموش ہو گیا ۔اسکا وجود ساکت ہو چکا تھا ۔مگر اسکا ہاتھ ابھی بھی نہیں رکا تھا ۔چہرے پر بنتی آنسوؤں کی لکیر کے ساتھ اس کا ہاتھ اب بھی مسلسل چل رہا تھا ۔خون کے کہیں چھینٹے اس کے چہرے اور کپڑوں پر پڑے تھے ۔اسکا ہاتھ خون سے لت پت ہو چکا تھا ۔یہاں تک کہ اسکا ہاتھ اور بازو مسلسل پوری قوت صرف کرنے کے باعث تکلیف محسوس کرنے لگے تھے ۔ہانپتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ روکا تھا ۔رک کر تھوڑی دیر سانس لی ۔پاس خشک پتوں پر پڑے موبائل کی ٹارچ کی روشنی سیدھی اس شخص کے چہرے پر پڑ رہی تھی جس کا پورا چہرہ خون سے تر ہو چکا تھا ۔دور سے دیکھنے پر اسکا وجود بے جان معلوم ہوتا تھا ۔
"تمہارا باپ بھی ایک قاتل تھا تم بھی ایک قاتل ہی بنو گے ۔"کوئی اس کے کان کے قریب چنگھاڑا تھا ۔اور وہ دہاڑے مار مار کر رویا تھا ۔کتنی دیر یوں ہی گزر گئی تھی ۔وہ ایک بڑے خطرے سے خود کو محفوظ کر چکا تھا ۔اپنی بقا کی جنگ ابھی ابھی وہ جیت چکا تھا ۔اب کوئی اور چیز اسے ہراساں نہیں کر پا رہی تھی ۔نہ ہی وہ تاریک رات ،نہ اس جنگل کی پرسرار خاموشی اور نہ ہی اپنے اکیلے ہونے کا احساس ۔ زور زور سے روتے اس نے اپنے شرٹ کے ٹوٹے بٹن دیکھے تھے ۔اپنا لباس ٹھیک کرتے وہ اٹھ کھڑا ہوا اس کے ہاتھ میں وہ پتھر اب بھی پوری مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا ۔اگلے کچھ لمحوں میں وہ بے جاں وجود وہاں اکیلا پڑا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
باہر صبح کا اجالا پوری طرح پھیل چکا تھا ۔دس منزله عمارت کے اس چھوٹے سے فلیٹ میں صبح کا آغاز ہوا چاہتا تھا ۔قدرے چھوٹے سائز کے اس اوپن کچن میں اتنی گنجائش بہرحال تھی کہ تین لوگوں کی ضرورت پوری کر سکے ۔پراٹھے کی سائیڈ الٹ کرتی وہ ساتھ میں دم آئی چائے پر بھی نگاہ رکھے ہوئے تھی ۔ہلکے بھورے رنگ کے بال جوڑے میں مقید گردن ڈھانپے ہوئے تھے ۔کندھوں پر برابر کیے دوپٹے اور قدرے ڈھیلے ،کھلے سے لباس میں بھی اسکی دراز قامد اور متناسب جسامت کا کسی حد تک انداز لگانا مشکل نہ تھا ۔گندمی مائل صاف رنگت کے ساتھ اسکے خدوخال کافی پر کشش دکھائی دیتے تھے ۔بڑی بڑی گول سی آنکھوں کا سبز رنگ انہیں مزید خوب صورت بناتا تھا دائیں آنکھ کے ابرو کے قریب آدھے چاند نما نشان سا تھا ۔دیکھنے میں وہ اپنی عمر سے کم معلوم ہوتی تھی ۔اپنی ظاہری شکل و صورت کے ساتھ ساتھ اسکے چہرے پر چھایا سختی کا ہمہ وقت رہنے والا تاثر اسے ممتاز بناتا تھا ۔جو اسکی ذات کا حصہ معلوم ہوتا تھا ۔اسکے کولیگز کی اسکے بارے میں رائے تھی وہ سال میں شاید ایک ہی بار مسکراتی ہو گی ۔
برنر بند کرتی وہ پلٹتی ہے ۔تبھی سامنے والے کمرے کا دروازہ کھلتا ہے ۔اسکول یونیفارم میں پوری طرح تیار پیچھے بیگ ڈالے وہ باہر آتا دکھائی دیتا ہے ۔وہ سات آٹھ سال کی درمیانی عمر کا بچہ تھا مگر دیکھنے میں اپنی عمر سے کچھ بڑا دکھائی دیتا تھا ۔سرخ و سپید رنگت پر سیاہ بال اور تیکھے نقوش لئے وہ کافی خوب صورت لگتا تھا ۔آنکھوں کا رنگ اسی کی طرح سبز نگینوں جیسا تھا ۔اسے دیکھ کر وہ رکتا ہے ۔آنکھوں کی چمک میں کچھ اور اضافہ ہوتا ہے اور پھر وہ قدرے جھک کر اپنی ناف پر ایک ہاتھ رکھے گردن جھکاتا ہے ۔
"یور ہائی نیس ۔"باریک مگر بالکل صاف سی آواز میں کہتا وہ سیدھا ہوتا ہے ۔
"اسلام علیکم ۔"اور کچن کارنر میں کھڑی سال میں ایک بار مسکرانے والی لڑکی پورے دل سے مسکراتی ہے ۔سر کے اشارے سے بنا آواز کے "وعلیکم سلام "کہتے وہ ناشتے کی ٹرے کاؤنٹر پر رکھتی ہے ۔اور خود گھوم کر باہر کی جانب رکھے تین اسٹول کی جانب بڑھتی ہے ۔تب تک وہ بھی اپنا بیگ وہاں لینونگ ایریا کے لئے استعمال ہونے والے ایریا میں رکھے صوفے پر ڈالتا اسکے قریب آ چکا تھا ۔
اسٹول پر بیٹھتا وہ پوری طرح سے ناشتے کی طرف متوجہ تھا ۔اسکی بہت سی اچھی عادتوں میں سے ایک اچھی عادت یہ بھی تھی وہ کھانے پینے کے معاملے میں کبھی تنگ نہیں کیا کرتا تھا ۔ہر چیز رغبت سے کھاتا تھا ۔اس معاملے میں کبھی اسکی ماں کو اسکے ساتھ سختی کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی ۔
ایک ہی پلیٹ میں سے آملیٹ کے ساتھ پراٹھا کھاتے جیسے اسے کچھ یاد آیا تھا ۔
"ماما آپ نے ڈائری پر سائن نہیں کیے ۔"اسکا منہ تیز تیز ہل رہا تھا ۔صلہ نے نوالا لیتے سر ہلایا تھا ۔
"ابھی کر دیتی ہوں ۔"رات کو بھی اس نے کہا تھا تب وہ اسکے اور اپنے کپڑے پریس کر رہی تھی ۔شہیر سو گیا تو اسکے ذہن سے بھی نکل گیا تھا ۔
"پرسوں پیرنٹس میٹنگ بھی ہے ۔آپ کو چھٹی مل جائے گی ۔"
"میں ٹائم پر پہنچ آؤں گی شہیر ۔تم جانتے ہو تم میرے لئے سب سے پہلے آتے ہو ۔"ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے اس نے اٹھتے ہوئے اسکا گال چوما ۔
شہیر کے چہرے پر تفاخر بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی ۔وہ واپس مڑ کر جلدی جلدی آخری نوالے لینے لگا تھا ۔
صلہ اسکا بیگ چیک کر رہی تھی ۔ڈائری نکال کر پینسل کی تلاش میں نظر دوڑائی تھی ۔صوفے کے ساتھ رکھی چھوٹی میز پر سجے مگ میں سے پین بر آمد کیا تھا ۔
"جلدی کرو نیچے وین آ گئی ہو گی ۔"ایک نظر اسکے بیگ میں رکھی کتابوں اور کاپیوں کو دیکھ وہ کچن میں سے اس کا لنچ باکس لینے گئی تھی ۔
"میں نانو کو اللّه حافظ کر کے آتا ہوں ۔"جلدی سے کہتا وہ اٹھ کر اندر کمرے کی جانب بھاگا تھا ۔کچھ دیر بعد وہ اپنا بیگ اٹھائے باہر نکل رہا تھا ۔صلہ کے ہاتھ میں اسکا لنچ باکس اور پانی والی بوتل تھی ۔
اسے چھوڑ کر وہ واپس آتی ہے تو اس فلیٹ کے دوسرے کمرے کا دروازہ کھلتا ہے ۔اندر سے ایک پچپن کے لگ بھگ کی قدرے فربہہ مائل خاتون باہر نکلتی ہیں ۔آنکھوں پر نظر کا چشمہ چڑھائے دھیمی سی چال کے ساتھ وہ اسی کی سمت بڑھتی ہیں ۔
"چائے بنا دوں آپ کے لئے ؟"انکی موجودگی بھانپ کر برتن سنک میں رکھتے وہ انکی طرف مڑی ۔
"نہیں بیٹا ابھی دل نہیں چاہ رہا ۔میں بنا لوں گی خود ۔"انکے کہنے پر وہ سر ہلاتی واپس برتنوں کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے ۔
"شہیر چلا گیا ۔"اب کے وہ فریج میں سے پانی کی بوتل نکال رہی تھیں ۔
"جی ابھی ابھی نکلا ہے ۔"
"تمہارا بھی جانے کا وقت ہونے والا ہے ۔یہ رہنے دو میں کر لوں گی ۔"گھڑی کی جانب نگاہ کرتے وہ اسے ٹوک گئی تھیں ۔
"ابھی بہت وقت پڑا ہے خالہ ۔یہ تو بس پانچ منٹ میں ہو جاتا ہے ۔آپ پر بھی کتنا بوجھ ڈالوں میں ۔پہلے ہی کیا کم کرتی ہیں آپ ہمارے لئے ۔"جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ایک تشکر بھری نظر انکی جانب ڈالی تھی جو اب اسٹول پر بیٹھ پانی پی رہی تھیں ۔
"یہ بھی خوب کہی بیٹا تم نے ۔گھر کی صفائی سے لے کر صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا تک تو تم خود بناتی ہو ۔میں کیا کرتی ہوں آ جا کر دن کو ہلکا پهلكا کچھ بنا لیتی ہوں اپنے اور شہیر کے لئے ۔اور اسے بھی تم بڑھا چڑھا کر پیش کرتی رہتی ہو ۔"عینک ناک کی نوک پر رکھے نگاہ اوپر اٹھائے وہ سر جھٹک کر ہنسی تھیں ۔
"آپ کو کیا پتہ خالہ آپ کی وجہ سے کس قدر ڈھارس ہوتی ہے مجھے ۔شہیر کی طرف سے بے فکری آپ کی ہی تو مرہون منت ہے۔آفس میں مجھے سکون ہوتا ہوتا ہے آپ ہیں اسکے پاس ۔آپ نہ ہوں تو پتہ نہیں میں کیا کروں ؟"رومال سے ہاتھ خشک کرتے وہ اب پوری طرح انکی طرف متوجہ تھی ۔
"تم اسے سکون سے بیٹھنا کہتی ہو صلہ ۔ہر آدھے گھنٹے بعد تو فون کر رہی ہوتی ہو ۔اسکے منٹ منٹ کی خبر رکھتی ہو ۔"وہ اب صاف صاف اسکا مذاق اڑا رهی تھیں ۔
"کیا کروں خالہ ؟۔وہ میرے لئے میری سانسوں کے جیسا ہے ۔ جانتی تو ہیں آپ ۔"اسکی بے چارگی پر رقيه نے نظر بھر کر اسے دیکھا تھا ۔دل میں اک ہوک سی اٹھی تھی ۔
"اور اس سب میں صلہ کہاں ہے ؟"بالکل اچانک ہی بات کا رخ بدل گیا تھا ۔صلہ چونکے بنا نہیں رہ سکی ۔رقيه اسے سنجیدگی اور قدرے افسردگی سے دیکھ رهی تھیں ۔وہ بھی سنبھل گئی ۔
"صلہ شہیر میں ہے ۔اسے اسی میں دیکھا کریں ۔صلہ کو صلہ میں ڈھونڈیں گی تو آپ کو مایوسی ہو گی خالہ ۔"دھیمی مگر سنجیده آواز ،رقيه نے افسوس سے اسے دیکھا تھا ۔
"اپنی عمر سے بڑی باتیں مت کیا کرو بیٹا ۔مجھے خوف آنے لگتا ہے ۔"انکی بات سن کر وہ خفیف سا مسکرائی ۔ذرا توقف کو چپ رهی اور پھر بولی تو آواز بالکل ہموار اور لہجہ ہر احساس سے عاری تھا ۔
"غلط کہا جاتا ہے عمریں برس بیتنے سے بڑھتی ہیں ۔زندگی بڑی بے رحم ہے ایک ہی جھٹکے میں ایسی پختگی عطا کر دیتی ہے کہ سالوں کے تجربے لمحوں میں سمٹ آتے ہیں ۔میرے لئے بھی ایک تجربہ کافی تھا مزید کی کوئی گنجائش باقی کہاں رہی ہے جو آپ کو خوفزدہ کرے گا خالہ ۔دیر ہو رهی ہے ۔میں تیار ہوتی ہوں ۔"موضوع بحث سمیٹ کر وہ وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔رقيه نے اسکی پشت کو دکھ بھری نظروں سے دیکھا تھا ۔کچھ چیزیں اختیار کی حد سے باہر ہوتی ہیں انہی میں سے ایک قسمت ہے جسے بدلنے کا اختیار ہمارے لاکھ چاہنے پر بھی ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتا ۔اگر ایسا ہوتا تو رقيه پہلی فرصت میں صلہ جہانگیر کی قسمت بدل دیتیں ۔نو سال پہلے کے لکھے کو مٹا دیتیں ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
کمرے میں گهپ اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔رات کا آخری پہر شروع ہوا چاہتا تھا کھڑکی کے آگے سے پردہ ہٹا ہوا تھا جہاں سے بارہویں کے تکمیل کی جانب گامزن چاند کی روشنی کمرے کے اندر اک لكیر کی صورت نمودار ہوتی ہر شے کو ملگجی سی روشنی عطا کر رہی تھی ۔ایسے میں بستر پر ہوش و حواس سے بیگانہ وجود پوری طرح پر سکون نیند کی آغوش میں تھا ۔بہت قریب سے دیکھنے پر اسکے نقش کسی حد تک واضح نظر آتے تھے ۔دراز و تنومند جسامت کا وہ تیس کے اوپر کا مرد تھا ۔ماتھے پر بال بے ترتیب سے بکھرے پڑے تھے ۔ ستواں ناک کی نوک چمکتی معلوم ہوتی تھی ۔ہونٹ سوتے ہوئے بھی سختی سے باهم پیوست تھے ۔
اسکے پرسکون خدوخال میں سوتے ہوئے بھی نرمی کا تاثر زائل سا تھا مگر وہاں آرام ده کیفیت صاف دکھائی دیتی تھی ۔
سوتے ہوئے بند پلکوں کے اس پار اسکی آنکھوں کی پتلیوں میں ارتعاش سا برپا ہوا تھا ۔چہرے پر پہلے بے آرامی کا تاثر ابھرا ،پھر شدید ہیجانی کیفیت میں اس کے چہرے نے کہیں رنگ لمحوں میں بدلے تھے ۔نیند کی حالت میں اسکا ہاتھ اپنی گردن تک گیا تھا ۔اور پھر وہ ہربڑا کر اٹھ بیٹھا تھا ۔دوسرا ہاتھ اندھیرے میں بنا سوچے سمجھے سائیڈ پر مار کر لیمپ جلایا گیا تھا ۔
تیز تیز سانسوں کی بے ربطگی اتنی زیادہ تھی کہ اسے منہ کھول کر گہرے سانس بھرنے پڑے تھے ۔سفید روشنی میں اسکے پسینے سے تر سپید چہرے کا رنگ بالکل فق پڑ رہا تھا ۔جیسے اسکے چہرے پر سے سارا خون نچڑ گیا ہو ۔
آنکھوں کی سراسیمگی کا عالَم یہ تھا کہ پتلیاں پتھرائی ہوئی سی لگتی تھیں ۔یکایک اس نے اپنے دونوں ہاتھ سامنے کیے تھے جن کی لرزش بڑی واضح تھی ۔کشاده ہتھیلیوں پر اسے سرخ خون کا سا گمان ہوا تھا ۔وہ اندھا دھند اٹھ کر واش روم کی جانب بھاگا تھا ۔واش روم کی بتی جلاتے ہی سارا منظر تیز روشنی میں نہا گیا تھا ۔اب کی بار واش بیسن کے آگے کھڑا وہ صابن مل مل کر ہاتھ دھو رہا تھا ۔مگر وہ سرخ گاڑھا سیال مادہ اترنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا ۔دفعتاً اسکی نگاہ آئینے میں نظر آتے اپنے چہرے پر پڑی تھی ۔اسکے منہ اور گردن پر بھی سرخ خون کے دهبے بڑے نمایاں تھے ۔پے در پے کہیں چھینٹے منہ پر مارتے ہوئے اس نے اتنی شدت سے اپنا چہرہ رگڑا تھا کہ وہاں سے جلد گلابی مائل ہونے لگی تھی ۔کتنی دیر تک وہ یہ عمل دوہراتا رہا تھا اسکی شرٹ پوری طرح پانی سے بھیگ چکی تھی ۔ماتھے پر گیلے بال چپک گئے تھے ۔بہت سارا پانی آنکھوں میں جا کر جلن اور گلابی پن کا باعث بن چکا تھا ۔تھک کر اس نے آئینے میں اپنا آپ ایک بار پھر سے دیکھا تھا ۔اسکا چہرہ اب کے صاف تھا ۔ہاتھ بھی دھل کر اصلی حالت میں آ چکے تھے ۔ایک اکھڑا ہوا سانس لبوں سے خارج کرتے نل بن کیے کتنی دیر دونوں ہاتھ واش بیسن کے اطراف جمائے ،گردن جھکا کر اس نے آنکھیں موند اپنی حالت پر قابو پانے کی کوشش کی تھی ۔
واپس کمرے میں آ کر ساری لائٹس جلاتے وہ ڈھے جانے والے انداز میں آڑھا ترچھا بیڈ پر گرا تھا ۔آنکھوں کی پتلیاں اب بھی ساکن تھی ۔مگر اب ان میں ہیجان کی سی کیفیت کی جگہ سرد پن نے لے لی تھی ۔چہرے کا رنگ آہستہ آہستہ نارمل ہونے لگا تھا ۔وہاں اب پہلے سی بے چینی ،تکلیف اور خوف و ہراس نہیں تھا بلکہ ایک منجمد کر دینے والا بے تاثر سا احساس ہلکورے لے رہا تھا ۔سانسوں کی آواز بالکل مدهم تھی جو انکے پر سکون ہو جانے کی علامت تھی ۔
اس نے اپنا آپ سنبھال لیا تھا ۔بالکل ویسے جیسے کہیں سال پہلے سنبھالا تھا ۔وہ ایک عرصے سے PTSD کا شکار تھا اور اسکا اپنے سوا کوئی طبیب نہیں تھا ۔اپنا مسیحا وہ ہمیشہ سے خود رہا تھا ۔اپنا مددگار اس نے ہمیشہ خود کو چنا تھا ۔اسکا ڈر ،خوف ،اسکی تکالیف ،اسکے سارے مسائل اسکے اپنے تھے جن کا کوئی شریک نہیں تھا ۔اور ان سب سے نمٹنا اس نے بہت چھوٹی عمر میں سیکھ لیا تھا ۔اس وقت بھی اپنے سوا اسے کسی کی ضرورت نہیں تھی ۔باقی کی پوری رات اس نے جاگ کر گزارنی تھی خود کو پہلے جیسا مضبوط کرنا تھا ۔اور صبح آئینے کے سامنے خود کو ماضی کے ہر خوف و ہراس کی قید سے آزاد شخص کے روپ میں دیکھنا تھا ۔
. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
اتنے تھوڑے دنوں کے لئے آنے کی ضرورت ہی کیا تھی پھر ۔آرام سے رہتے وہیں ۔مجھے بھی سکون سے رہنے دیتے ۔ویسے بھی تمہارے آنے سے کون سا مجھے کوئی فائدہ ہوتا ہے ۔الٹا میرا کام ہی بڑھ جاتا ہے ۔اس عمر میں بھی تمہیں پکا کر ہی کھلانا پڑ رہا ہے ۔"ایپرن باندھے اسکے سامنے کافی کا مگ رکھتے وه واپس مڑے تھے ۔سفید بال اور پوری طرح سے سفید ریش میں انکی سرخ و سپید کشمیری رنگت والا چہرہ اور بھی پر نور لگتا تھا ۔پچھتر کے قریب قریب عمر کے اس حصے میں بھی چاک و چوبند اور بالکل فٹ نظر آتے تھے ۔
"آپ ہی اداس ہو رہے تھے میرے بغیر ۔روز ایک ہی سوال کرتے تھے کب واپس آ رہے ہو ؟اب جب آپکا خیال کر کے دس دن کی لیو پر آ ہی گیا ہوں تو بھی کسی ناراض گرل فرینڈ کی طرح آپ کے گلے شکوے ہی ختم نہیں ہو رہے ۔"کافی کا سپ لیتے وہ مسکرایا تھا مگر کندھے پر پڑنے والی ڈوئی نے اسے كراہنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
"بو بی ۔۔۔"چھلک جانے سے بال بال بچی کافی کو میز پر رکھ کندھا سہلا تے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا تھا ۔
"شرم تو نہیں آئی ہو گی بوڑھے دادے کو گرل فرینڈ سے تشبیہ دیتے ہوئے ؟"کمر پر ہاتھ جمائے وہ اس کے پہلو میں کھڑے اب خشمگیں نظروں سے اسے گھور رہے تھے ۔جس کی ایکٹنگ اپنے عروج پر تھی ۔
"کمال کرتے ہیں آپ بھی ۔۔۔۔اب آپ سے بھی شرم کرتا پھروں میں ۔"کندھا چھوڑ کر ہنستا وہ مگ پھر سے اٹھا چکا تھا ۔
"شرم مت کرو بیٹا ۔بس تھوڑا خیال کر لو وہی کافی ہو گا میرے لئے ۔"واپس مڑ کر ڈوئی رکھتے اپنے لئے بنائی چپاتی اور سالن کی ٹرے اٹھا کر وہ بھی اس کے ساتھ آ بیٹھے تھے ۔ایپرن اتارنے کا تردد ابھی بھی نہیں کیا گیا تھا ۔
"کس قسم کا خیال بوبی ۔ذرا روشنی ڈالیں ۔"سر ہلاتا وہ اب پوری طرح سے انکی طرف متوجہ تھا ۔جس پر انہوں نے نوالے توڑتے ایک متاسف نگاہ اس پر ڈالی تھی ۔
"میری تنہائی کا ۔۔۔۔میرے اکیلے پن کا ۔اس عمر میں بھی میں بوڑھا تمہیں پکا پکا کر کھلا رہا ہوں ۔اب نہیں ہوتا مجھ سے یہ سب ۔اس گھر میں کوئی پکانے والی آ جانی چاہیے اب ۔جو سب سنبهال لے آ کر ۔"اپنی پلیٹ پر جھکے انکے کہنے پر اس نے سمجھنے کے سے انداز میں سر کو جنبش دی تھی ۔
"اوہ ۔۔۔۔اچھا اچھا ۔میڈ کی بات کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔"شد و مد سے سر ہلاتے انکے تنبیہی انداز میں خود کو گھورنے پر اسکی چلتی زبان کو بریک لگی تھی ۔
"نہیں میڈ کی بات تو نہیں کر رہے آپ ۔۔۔۔گھر کے کاموں تک تو ٹھیک ہے مگر اسکا آپ کی تنہائی اور اکیلے پن سے کیا لینا دینا ۔کامن سینس ۔"
"میں شادی کی بات کر رہا ہوں ۔"مزید اسکے اندازوں کی تاب نہ لا سکتے ہوئے وہ دل پر پتھر رکھ کر تحمل سے بولے تھے ۔البتہ کان سرخ ہونے لگے تھے ۔
مرتضیٰ کے ہونٹ اوہ کی شیپ میں گول ہوتے ٹھہر سے گئے تھے ۔کچھ وقت اس نے انکی بات کو ہضم کرنے کے لئے لیا تھا ۔پھر گلا کھنگار کر گویا ہوا ۔
"بالکل ۔۔۔۔۔میں ایگری کرتا ہوں آپ سے ۔ہمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے ۔بلکہ بہت پہلے سوچ لینا چاہیے تھا
لیکن کوئی بات نہیں دیر اب بھی نہیں ہوئی ۔"اپنا کافی کا مگ ایک سائیڈ پر کرتے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم پھنسائے ، میز کی سطح پر رکھے ،وہ سوچ سمجھ کر سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔عبدالرحمان کاظمی کے چہرے کی خوشی اس لمحے دیدنی تھی ۔
"تو پھر تم بتاؤ ۔تمہاری نظر میں کوئی ہے ؟"وہ پر جوش ہوئے تھے ۔کچھ بے آرامی سے مرتضیٰ نے پہلو ذرا بھر بدلا ۔
"میری نظر میں بو بی ؟؟؟میرے خیال میں یہ فیصلہ آپ کو کرنا چاہیے ۔"ہلکا سا مسکراتے شانے اچکائے ۔عبدالرحمان صاحب نے بھرپور اطمینان سے سر نفی میں ہلایا ۔ناشتے سے ہاتھ وہ کب کا روک چکے تھے ۔
"نہیں میں تمہاری پسند کو ترجیج دوں گا مرتضیٰ ۔تم کھل کر اپنی پسند کا اظہار کر سکتے ہو ۔"انکے کہنے پر کچھ متذبذب سا وہ محتاط نظریں ان پر جمائے جیسے سوچ میں پڑ گیا تھا ۔
"مس شازمہ کیسی رہیں گی ؟"ڈرتے ڈرتے انکی طرف دیکھتے اس نے ہمت کر ہی ڈالی تھی ۔
عبدالرحمان کاظمی کی آنکھیں حیرت و بے یقینی سے پھیلی تھیں ۔ایک بھر پور نگاہ اس کے چہرے پر ڈال کر اسکی سنجیدگی جاننی چاہی تھی جو پوری طرح سے سنجیدہ دکھائی دیتا تھا ۔پھر زبردستی ہونٹوں کو کھینچ کر مسکراہٹ میں ڈھالا ۔نگاہوں کے سامنے سلم و سمارٹ سی نک سک تیار رہنے والی انہی کی کالونی کی شازمہ کا سراپا لہرایا تھا جو پچاس کے قریب پہنچنے کو تھیں مگر غیر شادی شدہ تھیں ۔
"شازمہ ۔۔۔۔اچھی ہے وہ مگر عمر میں کچھ بڑی نہیں ہے ؟نہیں مطلب دیکھو میں جانتا ہوں تم نئی نسل کے لئے عمروں کا فرق اب اتنا معنی نہیں رکھتا مگر پھر بھی اگر تم دس بارہ سال اس سے کم عمر کوئی دیکھ لو تو ۔۔۔۔"وہ ٹھہر ٹھہر کر بولتے مناسب الفاظ کا چناؤ کر رہے تھے ۔مرتضیٰ کے ماتھے پر بل پڑے ۔
"بالکل بھی نہیں ۔مس شازمہ مجھے بہت پسند ہیں وہ ایک اچھی خاتون ہیں ۔اور انکی ایج بھی مناسب ہے ۔اتنی عمر میں میچیورٹی لیول بھی ہائی ہوتا ہے اور یہ دونوں کے حق میں بہتر ہوگا ۔اس سے کم ایج کے حق میں میں قطعی آمادہ نہیں ہوں گا بو بی ۔"دو ٹوک اور قطعی انداز ۔عبدالرحمان نے پریشانی سے ماتھا مسل ڈالا تھا ۔
"مرتضیٰ تم جذباتی بن کر سوچ رہے ہو ۔ٹھیک ہے تمہاری بات سے میں اتفاق کرتا ہوں عورت میچیور ہو تو زندگی آسان گزرتی ہے۔مگر بیٹا اتنی میچیورٹی کا بھی کیا کرنا کہ بعد میں ۔۔۔۔دیکھو بیٹا سمجھنے کی کوشش کرو بعد میں بچوں کی پیدائش میں سو مسئلے ہوتے ہیں ۔"تحمل و متانت سے سمجھاتے ہوئے بھی انکی آواز میں جهنجهلاہٹ در آئی تھی ۔مرتضیٰ ایک جھٹکے سے اپنی کرسی سے اٹھا تھا ۔خاموش ماحول میں کرسی پیچھے ہونے کی چرچراہٹ بڑی واضح تھی ۔
"لاحول ولا قوت الا بلله ۔کیسی باتیں کر رہے ہیں بو بی آپ ۔ابھی مجھے شرم کا پاٹ پڑھایا جا رہا تھا ۔اب پوتے کے سامنے ایسی باتیں کرتے روح نہیں کانپی آپ کی ۔"ہاتھ نچا کر جذباتی عورتوں کی طرح وہ لڑنے پر اتر آیا تھا ۔عبدالرحمان ہونق پن سے اسے دیکھ رہے تھے ۔جو اب دو تین گہرے گہرے سانس لیتا جیسے خود کو کمپوز کر رہا تھا ۔
"دیکھیں بوبی آپ کی تنہائی کا احساس مجھے بھی ہے اس لئے میں اس میں کوئی برائی نہیں سمجھتا اگر آپ شادی کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو ۔بڑھاپے میں اپنے لائف پارٹنر کی اہمیت اور اسکی جو جگہ ہوتی ہے وہ زندگی میں کوئی اور نہیں لے سکتا ۔یہ بات سمجھتا ہوں میں ۔مگر اب اتنا اچھا بھی نہیں ہوں کہ اس عمر میں اپنے چچا یا پھپھو کی دنیا میں آمد پر خوش ہوتا پھروں گا ۔"سر جھٹک کر سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ اس نے جو کہا تھا ۔عبدالرحمان صاحب کو وہ سمجھنے میں کچھ وقت لگا تھا ۔اور اس کے بعد وہ غصے سے بھرے تاثرات چہرے پر لئے جس تیزی سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے بے اختیار وہ دو قدم ان سے دور ہوا تھا ۔
"بے ہدایتے ،گدھے، بے غیرتے شرم نہ آئی تجھے بوڑھے دادا کے بارے میں اتنا اول فول سوچتے ہوئے ۔میں اپنی نہیں تمہاری شادی کی بات کر رہا تھا ۔اور تم اتنی دیر سے نہ جانے کیا بکواس سوچ کر بے تکی ہانکے جا رہا ہے ۔یہ سفید داڑھی اور قبر میں جاتی ٹانگوں کے ساتھ میں اپنی شادی کی بات کروں گا کیا ۔"غصے اور ضبط کی شدت سے لال پیلے ہوتے وہ اسے شعله بار نظروں سے گھور رہے تھے جو اب منہ کھولے ہق دق سا انہیں دیکھ رہا تھا ۔شکر تھا انسان شرم سے پانی پانی نہیں ہوتا تھا ورنہ اس لمحے اس نے ضرور پانی کا بلبلا بن جانا تھا ۔
"لیکن آپ ہی نے تو کہا آپ کی تنہائی اور اکیلا پن ۔۔۔۔۔"تھوگ نگل کر وہ بمشکل کہہ سکا تھا ۔سارا جوش و ولولہ اس لمحے ہرن ہو چکا تھا ۔
"تو تجھ بیوقوف کی بیوی آئے گی پھر بچے ہوں گے گھر میں چہل پہل ہوگی تو میری ہی تنہائی دور ہو گی ۔"دانت پیس کر انہوں نے جس انداز میں کہا تھا مرتضیٰ کے لئے مزید وہاں رکنا محال ہو گیا تھا ۔کچھ دیر پہلے وہ ڈوئی کا حملہ برداشت کر چکا تھا اب مزید کسی خطرناک ہتھیار کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔
"اوکے فائن ۔آئی ایم سوری بوبی ۔میں اپنے سارے الفاظ واپس لیتا ہوں ۔یوں سمجھیں آج کی یہ صبح ہمارے بیچ کبھی آئی ہی نہیں تھی ۔"دونوں ہاتھ اٹھا کر
مفاہمتی انداز اپناتے کہتے ہوئے اس نے باہر کی جانب تیز قدموں سے دوڑ لگائی تھی ۔
"اب کہاں بھاگ رہے ہو ۔"پیچھے سے انکی جلالی آواز آئی تھی ۔
"مجھے کل ہی میسج ملا تھا بینک والوں نے بلايا ہے کچھ پیپر ورک کے سلسلے میں ۔اور ساتھ تاکید بھی کی گئی ہے کہ میں جلد از جلد یہ کام آ کر نمٹا جاؤں ۔"دروازے کے فریم میں رک کر وہ تیز تیز بولا تھا ۔
"ہفتے کے دن کون سا بینک کھلا ہو گا تمہارے لئے ۔"آنکھیں چھوٹی کیے طنز کیا گیا تھا ۔مرتضیٰ حجل ہوتے ذرا بھر گڑبڑایا ،پھر زبر دستی کی ہنسی ہنسا ۔
"آہ۔۔۔۔۔۔آج تو ہفتہ ہے مجھے بھول گیا ۔لیکن ۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی کیوں کہ میں اس ملک کا ایک ذمہ دار شہری ہوں اس لئے بینک بند ہونے کے باوجود انکے کہے کے عین مطابق میں جلد از جلد جاؤں گا اور بینک کے باہر سے چکر لگا کر واپس آ جاؤں گا ۔ڈونٹ وری بو بی میں ایک گھنٹے تک واپس آتا ہوں ۔"
وہ دروازے کے فریم سے غائب ہو چکا تھا ۔پیچے وہ ضبط کے بڑے بڑے کڑوے گھونٹ پی کر رہ گئے تھے ۔ناشتہ جوں کا توں پڑا تھا ۔اس کی دی ڈوز کے بعد مزید کچھ کھانے کی حاجت باقی کہاں رهی تھی ۔
....................................................................


0 Comments