.اوہ سوری میں بھول گئ تھی آپ نے بتایا تھا مجھے کہ آپ کافی پیتے ہیں میں ابھی بناکے لاتی ہوں ریحام کہہ کر کچن میں چلی گئ
یوشع اپنے روم میں آگیا جب تک وہ کوفی بناکے روم میں پہنچی یوشع نہاکے فریش ہوچکا تھا۔
تھینکس !
کافی کا کپ تھامتے ہوۓ اس نے ریحام کو تھینکیو بولنا ضروری سمجھا یہ اس کی عادت میں تھا کہ وہ بچپن میں بھی اپنی ماما تک کو ہر کام کے لیے تھیکس کہا کرتا تھا ۔
ریحام اور یوشع میاں بیوی ضرور تھے مگر ان میں ایک ہیپی کپل والی بات نہیں تھی یوشع ریحام سے بہت محبت کرتا تھا مگر ریحام کے دل میں صرف یوشع کے لیے اپنے شوہر کی حیثیت سے عزت تھی وہ اس کا شوہر تھا اس کا ہر طریقے سے بہت خیال رکھتا اس کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کو پورا کرتا اور سب سے بڑھ کر وہ ریحام سے محبت کے علاوہ اس کی عزت بھی کرتا ۔ ان سب کے بدلے ریحام بھی اس کے سب کام کرتی اور اس کی ہر بات مانتی اور دل سے عزت کرتی مگر محبت نہیں کرتی تھی ایسا نہیں تھا کہ یوشع کوئ بد شکل ہو دکھنے میں وہ بہت ہی خوبصورت خوبرو جوان تھا اس پر تو ناجانے کتنی فدا تھی مگر وہ اپنی بیوی پر عاشق تھا وہ اس رشتے کو زبردستی نبھانے کا قائل نہیں تھا وہ خود اس رشتے کو باخوبی نبھارہا تھا اور ریحام سے محبت بھی نبھا رہا تھا اس کی اکیلے کی محبت دونوں کے لیے کافی تھی ۔
یوشع یوسف زئ اسلامآباد سے تھا اس کے والد ابراھیم یوسف زئ آرمی میں تھے مگر چند سالوں پہلے ان کی دیتھ ہوگئ ۔ یوشع کا اپنا بزنس تھا وہ بہت کامیاب اور ایماندار انسان تھا یوشع کی والدہ کوثر بیگم یوشع کے ساتھ بزنس میں تھیں اور ایک چھوٹی بہن ہدیٰ بیوٹیشن تھی ۔ یوشع کی فیملی اسلام آباد میں رہتی تھی اور یوشع بزنس کے سلسلے الگ الگ شہروں میں رہتا تھا ۔ ملتان بھہ وہ بزنس میٹینگ کے لیے آیا تھا مگر اس کی قسمت میں یہسں ریحام کا ساتھ لکھا تھا ۔
آج کیا کیا تم نے گھر میں؟
کافی پیتے ہوۓ وہ ریحام سے پوچھ رہا تھا ۔ بات کا آغاز ہمیشہ یوشع ہی کرتا تھا ریحام بس مختصر سے جواب دیا کرتی تھی ۔
گھر میں کچھ کرنے کے لیے ہے ہی نہیں تو میں کیا کرتی ۔ ریحام نے جواب دیا۔
اچھا تو یعنی تم سوتی رہی تھی پورا دن ۔ یوشع نے مزاق میں کہی مگر سوفیصد درست کہی۔
ریحام حیرانی سے اسے دیکھنے لگی کہ اسے کیسے پتا کہ وہ دن بھر سوتی رہی تھی ۔
وہ کیسے اس کی ہر بات جان لیتا تھا ریحام نے دل میں سوچا اور بس جی کہنے پر اتفا کیا ۔
جی ؟
مطلب تم واقعی سوتی رہی پورا دن ؟
یوشع کو جان کر حیرت ہوئ ۔
وہ میں سوئ تھی پتا نہی کیسے آنکھ لگئ جب اٹھی تو عشا ہوگئ تھی ۔ ریحام نے ڈرتے ڈرتے بتایا جیسے ہوئ چوری پکڑی گئ ہو ۔
یوشع کو لگا شاید اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس نے اس کے ماتھے کو چھوتے ہوۓ ٹیمپریچر چیک کیا تو نارمل تھا بخار تو نہیں ہے اس نے سرسری طور پر کہا ۔ اچھا اب تم تو دن بھر سوئ ہو تو اٹ مینس دیٹ کہ رات میں تو اب اسانی سے نہیں سوگی۔ یوشع لیٹتے ہوۓ اسے اپنے قریب کرگیا ۔
یوشع کی قربت اسے سکون بخشتی تھی وہ خود کو بہت محفوظ سمجھتی تھی اس کے حصار میں لیٹے ہوۓ بہت مطمئن تھی یوشع کب کا سو چکا تھا اس نے اس کے ہلکے ہلکے خراٹے سنے تو اس کے بازو سے اپنا سر ہٹا کے تھوڑے فاصلے پر ہوگئ کڑوٹ بدل کر لیٹ گئ۔
یار لمظ وہ دیکھ انیقہ نے عمار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
وہ دونوں پیدل پیدل کالج سے آرہی تھی وہاں کالج کے سامنے ایک انسٹی ٹیوٹ میں عمار شاہ اپنے کسی دوست کو لینے اکثر آیا کرتا تھا ۔
عمار راجپوت ایک رئیس بزنس مین کامران راجپوت کا اکلوتا اور نہایت ہی خوبصورت تھا اس کی پرسنیلیٹی سے ہر کوئ متاثر تھا اپنے امیر ہونے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی خوبصورتی کا بھی بہت غرور تھا ۔ عمار شاہ کی کئ گرل فرینڈز تھی اور نہایت ہی فلرٹی نیچر کا تھا لڑکیاں اس پر مرتی تھیں اور وہ ہر روز کپڑوں کی طرح گرل فرینڈ بدلتا تھا اس کے ساتھ ساتھ شراب سگریٹ نوشی اور اسی طرح کے کئ برے کام کی اسے عادت تھی ۔
یار کتنا ہوٹ ہے یہ عمار !
انیقہ نے کہا۔
تمہیں اس کا نام کیسے پتا ؟
لمظ نے ساتھ چلتے ہوۓ پوچھا ۔
ارے یار میری دوست کے بھائ کا دوست ہے یہ اسی نے بتایا تھا یہ باہر سے پڑھ کے آیا ہے بہت امیر ہے یار۔
انیقہ نے رشک کرتے ہوۓ عمار کے بارے میں بتایا۔
اچھا !
لمظ نے بس اتنا ہی کہا اور گلی میں داخل ہوگئ ۔
لمظ ایک بہت غریب گھر سے تھی اس کے دو بھائ تھے جو اپنی اپنی بیوی بچوں کے ساتھ الگ گھر میں رہتے تھے والد کاشف خان صاحب کا انتقال ہوگیا تھا کچھ سالوں پہلے ہی تو صدف بیگم اور لمظ دونوں ایک چھوٹے سے کچے مکان میں رہتی تھیں جہاں ضرورت کی کوئ چیز نہیں تھی بس گزارا ہورہا تھا صدف بیگم گھر میں سلائ کرتی تھی اور لمظ بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی اس کے دو بھائ قاسم اور عاصم دونوں کی شادی ایک ساتھ ہوئ تھی اور شادی کے ایک سال بعد ہی دونوں اپنا گھر چھوڑ کر سسرال چلے گۓ تھے ان کی بیویاں دونوں بہنیں تھیں ۔ دونوں بھائ کبھی کبھی ملنے آیا کرتے تھے مگر لمظ اور ماں کی زمہ داری لینے سے منا کردیا تھا تو اب ان کا آنا جانا نہیں تھا تو اس کو بھی برداشت کرکے دونوں ماں بیٹی اپنی زندگی گزار رہی تھی لمظ جب باہر نکلتی تو اسے ہر چیز کا احساس ہوتا وہ اور لڑکیوں کی طرح زندگی نہیں گزارتی تھی اپنی اس زندگی سے وہ تنگ آگئ تھی اور بات بات پر چڑچڑانے لگی تھی اوروں کی طرح اس کے گھر میں لزیذ پکوان نہیں بنتے تھے اوروں کی طرح اچھے کپڑے نہیں پہنتی تھی یہ بات اسے احساس کمتری کا شکار کررہی تھی کبھی کبھی حالات انسان کو خطرناک بنادیتی ہے اور لمظ کے ساتھ بھی یہی ہوا وہ بھی اپنےان حالات سے بہت بدل گئ تھی۔
جتنی وہ غریب تھی خدا نے اسے اتنے ہی حسن سے نوازہ تھا اس نے ہمیشہ خود کو ڈھانپ کر رکھا تھا مگر جب تک انسان کی سوچ خوبصورت نا ہو تو ظاہری حسن لے ڈوبتا ہے ۔
لمظ کالج جاتی تھی تو اپنی پڑھائ کا خرچہ بھی خود اٹھاتی تھی ۔ وہ روز انیقہ کے ساتھ پیدل کالج جاتی تھی۔
آج کالج کے واپسی میں انیقہ نے اسے مخاطب کرتے ہوۓ کہا ۔
یار لمظ چلو نا تم بھی بہت مزہ آۓ گا ۔
نہیں نا امی نہیں جانے دیں گی ۔
لمظ نے انکار کیا ۔
اچھا تو امی کو مت بتاو نا ۔
انیقہ نے کہنے پر لمظ نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا ۔
کیا مطلب ؟
ارے میرا مطلب نے آنٹی کو یہ مت بتاو نا کہ ہم پارٹی میں جارہے ہیں کہہ دو کہ کسی دوست کے گھر پڑھائ کرنے جارہے ہیں ۔
انیقہ کی بات پر وہ سوچ میں پڑگئ چلو ٹھیک ہے میں بتاتی ہوں شام تک ۔
لمظ نے کہا ۔
شام تک نہیں تھوڑی دیر میں کنفرم کرکے بتانا کیوں کے سات بجے چلنا ہے انیقہ کہہ کر اپنے گھر کی طرف مڑ گئ ۔
لمظ انیقہ کی دوست کے گھر پارٹی میں جانا چاہتی تھی مگر اس کو رات کی پارٹی میں جانے کی اجازت نہیں ملتی اور وہ جانا بھی چاہتی تھی لیکن ایک مسلہ یہ بھی تھا کہ اس کے پاس پارٹی جیسے کپڑے نہیں تھے تو اس نے جانے سے منا کرنے کا ہی سوچ لیا تھا ۔
چھے بجے تک انیقہ اس کے گھر آگئ تھی انیقہ پوری تیار تھی مگر ابایہ میں تھی اور حجاب کے ساتھ ساتھ نقاب بھی لیا ہوا تھا تو صدف کو محسوس نہیں ہوا ۔
ارے بیٹا اس وقت ؟
صدف بیگم نے انیقہ کو دیکھتے ہوۓ پوچھا ۔
جی آنٹی وہ آج ہم عائشہ کے گھر جارہے ہیں ایکزامز کی تیاری کرنے ۔
انیقہ نے کہا ۔
بیٹا پر لمظ نے تو مجھے کچھ نہیں کہا ۔
صدف بیگم نے نا سمجھی سے پوچھا ۔
ارے امی وہ میں جاتی پر پھر سوچا نہیں جاوں تو اسی لیے نہیں بتایا آپ کو ۔
لمظ نے کمرے سے نکلتے ہوۓ کہا ۔
یہ تم کیا کہہ رہی ہو ؟
ہمارے پیپرز شروع ہونے والے ہیں اور تم کہہ رہی ہو کہ نہیں جانا ۔
انیقہ اس پر بگڑنے لگی ۔
لمظ اس کا ہاتھ پکڑ کے اندر لے گئ ۔
کیا کررہی ہو تم کیوں منا کیا تم نے جانے سے ؟
یار میں نہیں جانا چاہتی وہ ایک بڑی پارٹی ہے وہاں سب ہوں گے اور میرے پاس تو ایسی پارٹی میں پہنے کے لیے خاص کپڑے بھی نہیں ہے لمظ نے اداس ہوتے ہوۓ کہا ۔
اف ہو لمظ تم میرا کوئ ڈریس پہن لو ۔
انیقہ نے مسلہ حل کیا ۔
تمہارا ڈریس ؟
لمظ نے سوچتے ہوۓ پوچھا ۔
ہاں اب میں اتنی موٹی بھی نہیں ہوں چلو ابایہ پہنوں میرے گھر چل کے ڈریس پہن لو پھر وہی سے چل لیں گے ۔
اچھا امی میں عائشہ کی طرف جارہی ہوں انیقہ بھی ساتھ ہے دو گھنٹے میں آجائیں گے لمظ نے صدف بیگم سے کہا ۔
بیٹا اب رات ہورہی ہے مجھے مناسب نہیں لگ رہا رات میں تمہیں بیجھنا اور عائشہ کون ہے ؟ اس کا ذکر میں نے کبھی نہیں سنا ۔
صدف بیگم نے فکرمندی سے پوچھا ۔
وہ امی آپ نہیں جانتی ہماری کلاس فیلو ہے اچھا ہم آجائیں گے اس سے پہلے صدف بیگم کچھ کہتیں لمظ کہہ کرچلی گئ ۔
صدف بیگم فکرمند ہونے لگی اور لمظ کی خیر کی دعا کرنے لگی ۔ یا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا امین ۔
لمظ انیقہ کا ڈریس پہن کر پارٹی میں چلی گئ اس پارٹی میں ینگ لڑکے لڑکیاں تھے اور اتنا آزادانہ ماحول تھا کہ سب لوگ آپس میں گلے مل رہے تھے لڑکیوں کے پاس دوپٹہ نہیں تھا کچھ کی شرٹ سلیو لیس تھی تو کچھ نے باریک کپڑے کے تنگ اور بڑے گہرے گلے پہنے تھے ۔
وہیں لڑکے بھی ایسی فیلڈ کے تھے ۔
یار مجھے بہت اوکورڈ فیل ہورہا ہے لمظ انیقہ کے ساتھ چلتی ہوئ کہہ رہی تھی ۔
پارٹی میں میوزک فل ساونڈ میں تھا ۔ یار ان سب کے کپڑے تو دیکھو مجھے تو دیکھ کے ہی شرم آرہی ہے لمظ سب کو دیکھ کے کومینٹس پاس کرنے لگی ۔
یہ امیروں کی پارٹی ہے یہاں ایسی ہوتا ہے ۔
چلو اب یہ ابایہ اتارتے ہیں انیقہ اور لمظ نے ایک طرف سائیڈ میں جاکے ابایہ اتارا اور دوپٹے گلے میں لے لیا ۔
آو میں اپنی دوست سے ملواوں انیقہ لمظ کو ساتھ لے گئ لمظ اس طرح کی پارٹی پہلی بار اٹینڈ کررہی تھی تو بہت نروس ہورہی تھی ۔
یہ میری دوست لمظ ہے انیقہ نے اپنی دوست اور اس کے کچھ میل فی میل فرینڈز سے ملوایا ۔
ایک لڑکے نے لمظ کی طرف ہاتھ بڑھایا لمظ چونک گئ اور کنفوز ہوتے ہوۓ اس کے ہاتھ کو دیکھنے لگی ۔
کیا ہوا ؟
اس لڑکے نے لمظ کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔
کم آن لمظ وی آر آل فرینڈز ...
لمظ نے ڈرتے ہوۓ پہلی بار کسی غیر محرم سے ہاتھ ملایا تھا ۔
یار محفل کی جان عمار نہیں آیا ابھی تک ؟ ایک لڑکی نے پارٹی ہوسٹ سے پوچھا ۔
ہاں وہ بس آرہا ہے راستے میں ہے میری بات ہوئ ہے چلو نا ڈانس کرتے ہیں سب لڑکے لڑکیاں ڈانس کرنے لگے ۔
جس طریقے سے وہ چپک چپک کر ڈانس کررہے تھے لمظ کو یہ چیز عجیب لگ رہی تھی چلو نا تم بھی آو انیقہ لمظ کا ہاتھ پکڑ کر ڈانس فلور پر لے گئ ۔
وہ ڈرتی ڈرتی بس ہلکے ہلکے تالی بجانے لگی ایک لڑکے نے اسے کندھے پر ٹکر ماری وہ ایک دم چونک گئ اتنے میں دوسرے لڑکے نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوۓ اسے ڈانس کروانا چاہا مگر لمظ گھبرا گئ اور ایک دم پیچھے ہوئ اس لڑکے کے اس طرح چھونے پر لمظ کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے وہ سائیڈ ہو کر کھڑی انیقہ کو آواز دینے لگی مگر میوزک کی وجہ سے انیقہ تک اس کی کوئ آواز نہیں جارہی تھی لمظ اور گھبرانے لگی اور مزید آنسو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے گرنے لگی۔
پیچھے سے کسی نے اسے رومال دیا ۔
لمظ نے نظر اٹھا کر اپنے برابر میں کھڑے اس حسین شخص کو دیکھا اور نظر ہٹانا بھول گئ ۔
اسے یہ شخص بہت پیارا لگا تھا ۔
یہ لو آنسو پونچ لو ۔
عمار کے کہنے پر لمظ نے اس کے ہاتھ سے رومال لیا اور آنسو صاف کیے ۔
ہے انیقہ !
عمار نے لمظ کے ساتھ کھڑے کھڑے زور سے انیقہ کو آواز دی ۔
انیقہ اس کے بلانے پر چلی آئ آپ نے مجھے بلایا؟ انیقہ کو جیسے یقین نا آیا ۔
جی جی یہ آپ کی فرینڈ تھوڑا پریشان لگ رہی ہیں عمار کہہ کر وہاں سے چلا گیا ۔
لمظ اسے جاتا دیکھتی رہ گئ ۔
کیا ہوا تمہیں تم ٹھیک تو ہو ؟
ہاں وہ بس اب گھر چلو بہت دیر ہوگئ ہے ۔
لمظ نے پریشان ہوتے ہوۓ کہا ۔
اچھا چلو چلتے ہیں۔
کچھ دیر میں دونوں گھر آگئ ۔
بیٹا اتنی دیر ہوگئ ؟
میں پریشان ہورہی تھی کب سے صدف نے لمظ سے کہا۔
امی وہ راستے میں دیر ہوگئ ٹرافک بہت تھا ۔ لمظ بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔
ریحام اٹھ جاو !
صبح 10 بجے یوشع نے اسے جگایا وہ سوئ ہی فجر کے بعد تھی تو آفس جانے سے پہلے یوشع نے جگانا مناسب سمجھا ۔
آپ اٹھ گۓ ؟
ریحام نے آنکھیں مسلتے ہوۓ کہا اور سائیڈ سے اپنا دوپٹہ ڈھونڈنے لگی ۔
ہاں میں تو اٹھ گیا تم بھی آجاو ناشتہ کرلو ۔
یوشع کہہ کر روم سے نکل گیا ۔
اچھا میں فریش ہو کے آتی ہوں ریحام کہہ کر واشروم چلی گئ اور ناشتے کے لیے نیچے آئ یوشع آج ناشتہ بنا چکا تھا تو اس نے ٹیبل پر لگا دیا تھا ارے میں کر لیتی ہوں ریحام نے آگے بڑھتے ہوۓ کہا اور یوشع کے ہاتھ سے پلیٹ لے لی یوشع چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گیا۔
آج میں دن میں جلدی آجاوں گا تو ہم شوپینگ پر چلیں گے یوشع نے مصروف سے انداز میں کہا ۔
پر میرے پاس سب ہے مجھے کچھ نہیں چاہیے ریحام نے نارمل انداز میں کہا ۔
پر مجھے ضرورت ہے میں اپنی شوپینگ کے لیے تمہیں ساتھ لے جانا چاہتا ہوں اگر تم نہیں چلنا چاہتی تو کوئ بات نہیں یوشع نے ناشتہ فینیش کرتے ہوۓ کھڑا ہوگیا ۔
نہیں نہیں میں نے ایسا تو نہیں کہا میں چل لوں گی آپ کے ساتھ وہ میں کچھ اور بھی کہنا چاہ رہی تھی ریحام نے جھجھکتے ہوۓ کہا ۔
ہاں ہاں کہو یوشع متوجہ ہوا ۔
وہ میں کہہ رہی تھی کہ ہم کب تک باہر کا کھانا کھائیں گے میں چاہتی ہوں میں خود گھر میں کھانا بناو ۔
ٹھیک ہے پھر ہم گروسری بھی کر لیں گے اچھا اب مجھے لیٹ ہورہی ہے دوپہر میں ملتے ہیں یوشع کہہ کر چلا گیا ۔
ریحام اسے سی آف کرکے اندر آگئ وہ کتنا اچھا تھا نا اس کی ہر بات مان لیتا تھا تو اسے بھی اس کی ہر بات مان نی چاہیے وہ سوچتی ہوئ واپس روم میں آکر بیٹھ گئ ۔
ٹھیک بارہ بجے وہ ریحام کو لینے گھر آگیا تھا ریحام نے شال کندھے پر ڈال رکھی تھی اور اسکارف لیا ہوا تھا میک اپ سے عاری دودھیا چہرہ اسے پیارا لگا تھا ۔ وہ چپ چاپ آکر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ ۔ شادی سے پہلے وہ عبایا کے ساتھ حجاب لیتی مگر نقاب نہیں لیتی تھی ۔ پھر اس نے عبایا لینا چھوڑ دیا تھا اب وہ سب جگہ شال میں جایا کرتی کبھی اسکارف لیتی تو کبھی سر پر دوپٹہ ۔
کچھ دیر بعد گاڑی ایک مال کے آگے روکی۔ تم اندر چلو میں گاڑی پارک کرکے آتا ہوں ۔
یہ دیکھو کیسا ہے ؟
یوشع بلیو شرٹ اپنے سامنے لگاتے ہوۓ پوچھ رہا تھا ۔
اچھا ہے !
ریحام نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا ۔
مسکراتے ہوۓ اس کے گالوں پر ڈمپل نمایا ہوۓ یوشع ایک پل کے لیے اپنی جان سےزیادہ عزیز اور خوبصورت بیوی کو دیکھتا رہ گیا ۔
اچھا نہیں بہت اچھا ہے
یوشع نے قریب آکر اس کے ڈمپل کو چھوا ۔
ریحام گڑبڑا گئ اور ادھر ادھر دیکھنے لگی
وہ یہ شرٹ آپ پر بہت اچھی لگے گی
ایک دو شرٹ لینے کے بعد وہ لوگ لیڈیز ڈیپارٹ کی طرف آگۓ ۔
ااااا تم یہ ٹراۓ کرو یہ کلر تم پر بہت حسین لگے گا۔
اب کے یوشع نے ایک خوبصورت سی بلیک ساڑھی جس پر گولڈن کٹ دانے کا کام ہوا ہوا تھا جو ڈمی میں لگی ہوئ تھی ۔
یوشع ہم آپ کی شوپینگ کرنے آۓ تھے ۔
ریحام نے یاد دہانی کرائ ۔
ہاں میری شوپینگ تو ہوگئ نا اب تھوڑی تم بھی کرلو ۔آپ یہ ساڑھی نکال دیں ۔اس نے شوپ کیپر سے کہا ۔
ریحام چپ چاپ یوشع کا چہرہ دیکھنے لگی جو اسے اس وقت بہت پیارا لگا
یہ لو ٹراۓ کرو ۔ یوشع نے ساڑھی اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا
پر مجھے ساڑھی باندھنی نہیں آتی
ریحام نے پریشانی سے کہا ۔
آیئے میم ہم آپ کی ہیلپ کر دیتے ہیں
ایک لیڈی شوپ ہوسٹ ریحام کو اپنے ساتھ لے گئ
پانچ منٹ بعد ریحام ساڑھی میں ملبوس یوشع کو حیران کرگئ کمر تک آتے ہلکے مہرون شیڈڈ بال کھل چکے تھے ایک منٹ کے لیے اس کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ ۔ بہت بہت خوبصورت لگ رہی ہو یوشع کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کن الفاظ میں اس کی تعریف کرے ۔
ریحام بہت نروس ہورہی تھی۔
یوشع نے محسوس کرکے اسے واپس چینج کرنے بھیج دیا ۔
اب وہ دونوں جیولری شوپ پر موجود تھے ۔
یوشع نے ایک بہت ہی خوبصورت گولڈ کی ہارٹ شیپ لوکیٹ کے ساتھ چین پسند کی ۔ اور اس کے میچینگ کے ہی چھوٹے سے نازک ائیرنگز بھی لیے ۔
چلو ایک چیز اور رہتی ہے ۔ یوشع ریحام کا ہاتھ پکڑ کر اسے بینگرلز شوپ پر لے آیا اور اس کی ساڑھی کی میچینگ کی بلیک اور گولڈن چوڑیاں بھی لے لی ۔
یوشع اب بہت شوپینگ ہوگئ پلیز اب گھر چلیں ۔
ریحام کو لگا کے یوشع اب کسی اور شوپ کی طرف بڑھ رہا ہے تو اس نے روک لیا وہ کہاں اس طرح شوپینگ کی یا کسی کا خرچہ کروانے کی عادی تھی ۔ وہ اس کا شوہر تھا شوہر اس پر خرچ کرنا اس پر فرض تھا وہ اپنا ہر فرض نبھا رہا تھا پر وہ تو اس کی احسان مند تھی ۔
اچھا ٹھیک ہے آج کے لیے اتنا کافی ہے تو اب لنچ ٹائم یوشع اسے قریب ہی ریسٹورینٹ میں لے گیا ۔
تو کیا کھانا پسند کریں گی آپ ؟
یوشع نے بہت ادب سے پوچھا ۔
کچھ بھی ...
وہی مختصر جواب ۔
ریحام یوشع کے ساتھ پہلی بار کسی بڑے ریسٹورینٹ پر کھانا کھانے آئ تھی وہ خوش تھی وہ اسے خوش رکھ رہا تھا اس کے چھوٹے چھوٹے خواب جو اس کے لیے بہت معنی رکھتے تھے وہ انہیں پورا کر رہا تھا ۔
دونوں کھانے میں مصروف تھے ۔
یہ کیا کیا تم نے ؟
میرے سارے کپڑے خراب کردۓ جاہل کہیں کے ...
پیچھے سے کسی لڑکی کی آواز کانوں سے ٹکرائ۔
ریحام کو ایک سیکنڈ لگا اس آواز کو پہچان نے میں اس کے چہرے کا رنگ فق پڑ گیا ۔
یوشع نے مڑ کر دیکھا تو ویٹر اس لڑکی سے معزرت کررہا تھا جس سے غلطی سے اس لڑکی کے ڈریس پر مشروب گر گیا تھا ۔
ایم ریئلی سوری میم بٹ یہ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا مجھ سے غلطی سے گر گیا ۔
ویٹر نے مزید سوری کہنے پر بھی وہ لڑکی آپے سے باہر ہورہی تھی ۔
یوشع اٹھ کر جانے لگا تو ریحام نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا ۔
یوشع نے نا سمجھی سے ریحام کی طرف دیکھا ۔
رہنے دیں آپ کیوں جارہے ہیں ؟
ان کا میٹر ہے وہ خود دیکھ لیں گے ۔
یوشع نے سوال کرنے سے پہلے ریحام نے کہہ دیا۔
یوشع نے پھر اس سر پھری لڑکی کی طرف دیکھا جو اب مزید ریسٹورینٹ کے مینیجر سے بحث کرنے میں مصروف تھی ۔
چلیں ہم چلتے ہیں میری تھوڑی طبیعت خراب ہورہی ہے ۔ ریحام نے گھبراتے ہوۓ کہا ۔
کیا ہوا ہے ؟ یوشع نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا۔
پہلے کھانا تو فینیش کرلو ۔
نہیں بس کھا لیا آپ پارسل کروالیں خود کے لیے اور چلیں یہاں سے ۔ ریحام کے چہرے پر پریشانی کے زرات نمودار ہونے لگے تھے ۔
اوکے ریلیکس ہم چل رہیں ہیں اگر زیادہ طبیعت خراب ہورہی ہے تو ہم پہلے ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں ۔ یوشع نے فکرمند ہوتے ہوۓ کہا ۔
نہیں بس گھر چلیں شاید تھکن کی وجہ سے ہورہی ہے میں گھر جا کے ریسٹ کروں گی ٹھیک ہوجاوں گی ۔ ریحام کہہ کر کھڑی ہوگئ اور یوشع کا ویٹ کیے بغیر ہی گاڑی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئ ۔
یوشع کو تھوڑا عجیب لگا ریحام کا ایسا بیہیو مگر اسے لگا شاید شوپینگ میں زیادہ تھک گئ ۔ پھر وہ بل پے کر گاڑی میں آگیا اور گھر چلے گۓ ۔
"عورت ملکیت کے نہیں محبت کے حصار میں جینا پسند کرتی ہے " ....
وہ محبت ہی تو کررہا تھا وہ اس کے کہے کو مان دے رہا تھا .... رشتہ جتنا مضبوط ہوگا رنجیش اتنی ہی ہوگی لیکن جو لوگ فاصلوں کو سمیٹنے کا ہنر جانتے ہیں ان کے لیے محبت زیادہ مہربان ہوتی ہے۔

0 Comments