یار آج میری طبیعیت ٹھیک نہیں ہے تم آج اکیلی ہی چلی جاو ۔ انیقہ نے بستر سے اٹھتے ہوۓ لمظ سے کالج کا کہا ۔
کیا ہوا تمہاری طبیعیت کو ؟
لمظ نے فکرمند ہوتے ہوۓ پوچھا ۔
ارے کل پارٹی میں پتا نہیں کیسا عجیب سہ جوس پی لیا رات سے ہی سر بھاری ہورہا ہے آج ہمت نہیں ہے کالج جانے کی تم چلی جاو ۔
اچھا ٹھیک ہے میں واپسی میں ملتے ہوۓ جاوں گی تم سے ابھی لیٹ ہورہی ہے تم اپنا خیال رکھنا ۔
لمظ کہہ کر کالج کے لیے روانہ ہوئ روز کی طرح آج بھی وہ پیدل ہی تھی بس آج وہ اکیلی تھی کالج زیادہ دور نہیں تھا ۔
کالج والے روڈ پر اس کی نظر ایک لڑکے پر پڑی اور اسے اس لڑکے کو دیکھ کر غصہ آگیا ۔
یہ یہاں کیا کررہا ہے ؟
خود سے سوال کرتی ہوئ آگے بڑھ گئ ۔
اس لڑکے نے بھی لمظ کو دیکھ لیا اور اچانک سے سامنے آگیا ۔
یہ کیا بدتمیضی ہے ؟ ہٹو میرے راستے سے ۔
لمظ نے کڑک لہجے میں کہا ۔
کیا ہوا مجھ سے ناراض ہو ؟
ایسا بھی کیا کیا تھا میں نے ؟
اس لڑکے نے اتنا فرینک انداز میں کہا جیسے وہ اور لمظ بہت گہرے دوست ہوں ۔
پارٹیز میں لڑکیوں کو چھونا اور ان سے زبردستی ڈانس کروانا آپ معمولی سمجھتے ہوں گے پر میری نظر میں یہ غلط ہے ۔
لمظ رات والی حرکت یاد کرتے ہوۓ بھڑک کر بولی۔
اوہ تیکھی مرچ ...
آئ لو ایٹ ۔
اس لڑکے نے مزاق اڑھاتے ہوۓ پھر سے لمظ کا ہاتھ پکڑ لیا ۔
لمظ ایک دم گھبرا گئ اور رونے لگی
ہاتھ چھوڑو میرا ۔
مننان ہاتھ چھوڑ لڑکی کا ۔
عمار نے چیختے ہوۓ کہا ۔
مننان نے عمار کی آواز سن کر فورا لمظ کا ہاتھ چھوڑ دیا اور بائیک بھگاتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔
آپ ٹھیک تو ہیں ؟
عمار نے لمظ کے نزدیک آکے پوچھا ۔
لمظ اپنا ہاتھ سہلارہی تھی جو منناں کی سخت پکڑ سے سرخ پڑ گیا تھا ۔
جی میں ٹھیک ہوں لمظ نے اپنے آنسو پہچے ۔
آپ کہاں جارہی تھی آئے میں ڈراپ کردوں ؟
عمار نے آفر کی ۔
نہیں وہ میں بس کالج جارہی تھی آج میری دوست نہیں آئ تو اکیلے جانا پڑا پر میں چلی جاوں گی ۔
لمظ نے بتایا ۔ اب کے وہ نارمل ہوچکی تھی ۔
مجھے پتا ہے آپ کا کالج آجائیں میں ڈراپ کر دیتا ہوں اس طرح اکیلے جانا سیو نہیں پلیز کم ود می ۔
وہ کہتا ہوا اپنی گاڑی میں جا بیٹھا ۔ لمظ کے پاس منا کرنے کا اب کوئ جواز نہیں تھا تو وہ گاڑی میں جا کر بیٹھ گئ ۔
باۓ دا وے آئ ایم عمار ... عمار شاہ ۔
عمار نے خود سے اپنا انٹروڈکشن کروایا ۔
آپ کا نام کیا ہے ؟
اب کے وہ کچھ دوستانہ انداز میں پوچھنے لگا ۔
جی میرا نام ... لمظ ایک لمحے کے لیے چپ ہوئ۔
ہاں آپ کا نام اب کوئ تیسرا تو ہے نہیں اس گاڑی میں ۔ عمار نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔
وہ میرا نام لمظ ہے ۔
لمظ نے جھجھکتے ہوۓ بتایا ۔
نائیس نیم ... آپ کا نام بلکل آپ ہی کی طرح خوبصورت ہے ۔
اب کے عمار کے لہجے میں لچھ تھا کچھ ایسا جو لمظ کے دل کی دھڑکن تیز کر گیا ۔
اوکے مس لمظ آگیا آپ کا کالج ۔
عمار کی آواز سے لمظ چونکی جو بے اختیار اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔ اس میں کوئ شک نہیں کہ عمار بھی کسی شہزادے سے کم نہیں تھا ۔
جی جی ... لمظ ایک دم گاڑی سے اتری اور جانے لگی۔
رکیں مس لمظ ... عمار کی آواز پر اس کے بڑھتے قدم تھمے اور اس نے وہی سے مڑ کے عمار کی طرف دیکھا ۔
یہ میرا کارڈ ہے رکھ لیں جب بھی کبھی اس نا چیز کی ضرورت ہو کال کر لیے گا بندہ حاضر ہوجاۓ گا ۔ کہہ کر عمار نے کارڈ گاڑی کا مرر نیچے کرکے لمظ کی طرف بڑھایا اور ساتھ ایک دلکش مسکراہٹ لمظ کی طرف اچھالی ۔
لمظ اس کے ہر ایک ایک انداز اس کی مسکراہٹ پر فدا ہوگئ ۔ اور کارڈ لے کر جلدی سے کالج میں داخل ہوگئ ۔ آج اس کا دل ایک سو بیس کی اسپیڈ سے دوڑ رہا تھا یہ کیسا احساس تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھی ۔
پردہ بس یہ نہیں ہوتا کہ خود کو چھپا کے رکھنا پردہ یہ ہے کہ غریب کے سامنے دولت کی ... بھوکے کے سامنے کھانے کی .... مسافر کے سامنے گھر کی اور یتیم کے سامنے والدین کی نمائش نا کرو ۔ اور پردہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کا بھرم رکھ لو ان کی عیب یا ان کی کمزوری کو کسی پر عیاں نا کرو اور خاص طور پر کسی کی ذاتی زندگی میں دخل اندازی نا کرو اصل پردہ تو یہی ہے ....
ٹی وہ پر چلنے والے دینی پروگرام پر آج اس نے ایک نئ بات سیکھی وہ زندگی سے بہت کچھ سیکھ گئ تھی ۔ بس اب وہ لوگوں کو اپنی ذات سے خوش رکھنا چاہتی تھی ۔
یوشع لیپ ٹاپ پر مصروف اپنا کام کررہا تھا ۔
ریحام اس سے کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے کہے ۔
یوشع آپ کے لیے کافی بنادوں ؟
اس نے بات کا آغاز کرتے ہوۓ کہا ۔
نہیں فلحال ضرورت نہیں ۔ یوشع نے مصروف سے انداز میں کہا ۔
اچھا آپ اسلام آباد جائیں گے ؟
ایک اور سوال ۔
نہیں ابھی میرا کوئ موڈ نہیں ہے کام کا برڈن بہت زیادہ ہے لیکن تم جانا چاہتی ہو تو بتا دو میں ایک دو دن کے لیے لے چلوں گا ۔
نہیں مجھے نہیں جانا وہ تو بس میں ایسی پوچھ رہی تھی دونوں نے درمیان ایک لمبا وقفہ خاموشی کا گزرا ۔ یوشع کا کام تقریبا مکمل ہوچکا تھا اس نے لیپ ٹاپ بند کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اٹھ کر واشروم چلا گیا دو منٹ بعد کپڑے چینج کر کے بستر پر لیٹ گیا ۔ ریحام آنکھیں بند کیے دوسری طرف منہ کرکے لیٹی ہوئ تھی ۔ یوشع نے لیٹتے ہوۓ ریحام کو پکارا
ریحام ...
جاگ رہی ہو ؟
ریحام نے ہمم کہا ۔
کچھ کہنا چاہتی ہو ؟
پتا نہیں کیوں اسے ایسا لگا کہ وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی
جی !
ریحام اٹھ کے بیٹھ گئ ۔
یوشع بھی اٹھ بیٹھا ۔
کیا ہوا کسی چیز کی ضرورت ہے ؟ یا کوئ پروبلم ہے؟
طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟
کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں ہے اور نا ہی کوئ پروبلم ۔
بتاو پھر کیا بات کرنی ہے ؟
یوشع نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوۓ پوچھا ۔
وہ میں سوچ رہی تھی میرا امی والا گھر اگر ہم بیچ دیں تو ...
تو ؟
یوشع نے ریحام کی بات کاٹی ۔
نہیں میرا مطلب ہے وہ گھر ویسے بھی خالی پڑا ہے اگر اسے بیچ دیں گے تو اس کی رقم کچھ کام آجاۓ گی ۔ ریحام نے کہا ۔
کیا تمہیں پیسوں کی ضرورت ہے ؟
یوشع نے سنجیدگی سے کہا ۔
نہیں مجھے تو ضرورت نہیں ہے وہ تو میں اس لیے کہہ رہی تھی کہ گھر کسی کام کا بھی تو نہیں ہے تو فروخت کرنے پر ہمارے کام آجائیں گی رقم ۔ ریحام نے بات مکمل کی ۔
دیکھو ریحام وہ گھر تمہارا ہے اور میں اس طرح تمہارا گھر نہیں بیچ سکتا اگر تمہیں پیسے چاہیے تو مجھ سے بلا جھجھک لے سکتی ہو مگر میں نہیں چاہتا کہ وہ گھر بیچ کے تم کوئ اپنی ضرورت پوری کرو تم میری بیوی ہو میری زمہ داری ہو ۔
یوشع نے بہت پیار سے اسے سمجھایا ۔
ارے آپ غلط سمجھ رہے ہیں میں نے ایسا کب کہا کہ میں اپنی ضرورتوں کو اس گھر سے پورا کروں میں تو بس ...
رہنے دو اب چھوڑو اس ٹوپک کو اور سو جاو ۔
یوشع نے بات ختم کی اور لائٹ آف کر کے لیٹ گیا۔
یوشع نماز کا ٹائم ہوگیا اٹھ جائیں ۔
ریحام نے کندھے سے ہلاتے ہوۓ اسے جگایا ۔ وہ خود نماز پڑھ چکی تھی ۔
یوشع نے ایک آنکھ کھول کے ریحام کو دیکھا ۔ پتا نہیں کیوں نماز کی طرح دوپٹے میں اس کا لپٹا چہرہ اسے بہت پسند تھا اس نے اٹھ کر اس کے گالوں کو باری باری چوما ریحام ایک پل کے لیے ساکت ہوگئ۔ تمہارا حسن ڈبل ہوجاتا ہے جب تم اس طرح دوپٹہ اوڑھتی ہو ۔
وہ نماز پڑھ کے آجائیں دیر ہوجاۓ گی نہیں تو ۔ ریحام نے جھجھکتے ہوۓ کہا ۔
یوشع مسکرا دیا اس کے اس طرح بلش ہونے پر ۔
اوکے میں نماز پڑھ کر آتا ہوں پھر ایک ساتھ کوفی پیے گے ۔ یوشع کہہ کر چلا گیا ۔
ریحام روز اپنے اور اس کے لیے فجر کی نماز کے بعد کافی بنایا کرتی تھی کبھی کبھی دونوں ساتھ بالکنی میں پیتے کبھی روم میں ۔
یوشع نماز پڑھ کر آیا تو ریحام کچن میں کافی نکالنے لگی ۔ یوشع وہی کچن میں چلا آیا ۔ کل ساری گروسری کا سامان اس نے کچن میں ایسے ہی چھوڑ دیا تھا سب کچھ بکھرا پڑا تھا ۔ یوشع کے سامنے اسے تھوڑی شرمندگی ہوئ ۔
وہ میں آج سب سامان اپنی اپنی جگہ رکھ دوں گی کل تھک گئ تھی اس لیے نہیں رکھا ۔ اس نے اپنی جھینپ مٹانی چاہی ۔
کوئ بات نہیں آجاو چھت پر ۔ یوشع دونوں مگ اٹھا کر چلا گیا ۔
سردیاں اسٹارٹ ہوگئ تھی چھت پر ہلکی ہلکی ٹھنڈ تھی ۔ کافی کے دونوں مگ سے دھوا کسی دھن کی طرح اڑھ رہا تھا ۔
آج چھت پر کیوں ؟ ریحام کو ٹھنڈ لگ رہی تھی ۔
بس ایسے ہی دل کر رہا تھا آج چھت پر آوں تو آگیا
صبح کا منظر یوشع کو بہت پسند تھا ۔ چاروں طرف ہلکا اندھیرا اور ہلکی روشنی تھی ۔ ایک طرف پرندوں کی چہچہاہٹ دوسری طرف سبزہ جو یوشع نے اپنی چھت پر لگایا ہوا تھا ۔ یوشع کو گارڈنینگ بہت پسند تھی اس نے کئ طرح کے گھملے اور پودے جن میں طرح طرح کے پھول کھلے ہوۓ تھے جن سے الگ الگ خوشبو بھی آرہی تھی ۔ یہ سب منظر کسی کی بھی طبیعیت اور موڈ کو خوشگوار کرنے کے لیے کافی تھا ۔
ریحام چھت پر پہلی بار آئ تھی اسے اکیلے چھت پر جانے سے ڈر لگتا تھا ۔ مگر اسے پتا نہیں تھا کہ چھت کا یہ منظر اتنا خوبصورت ہوگا تو وہ روز یہاں آجاتی ۔ ریحام جا کے پھولوں کے پاس بیٹھ گئ اور انہیں چھونے لگی ۔ اس کے چہرے پر ایک الگ ہی تازگی تھی ۔
یوشع ریحام کو مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔
ریحام کی نظر جب یوشع پر گئ تو وہ بھی رسمن مسکراگئ ۔
تھینکس یوشع ۔ یحام نے اس کے قریب آتے ہوۓ کہا ۔
وہ کیوں ؟ یوشع نے نا سمجھی سے ریحام کی طرف دیکھا ۔
میری زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے ۔ ریحام اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ کہنے لگی ۔ پھر اس نے یوشع کے ہاتھ پر اپنے لب رکھے اور آنکھوں سے لگا لیا ۔
یوشع حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔
آج اس کی آنکھوں میں کچھ تھا ایک نیا احساس جو ایک خوشی مہیا کررہا تھا ۔
آپ کو پتا ہے میں دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی ہوں جو آپ کے نکاح میں ہوں ۔ اللہ ہمیں وہ نہیں دیتا جو ہمیں اچھا لگتا ہے بلکہ اللہ وہ دیتا ہے جو ہمارے لیے اچھا ہوتا ہے اور آپ سے بہتر میرے لیے کوئ ہو ہی نہیں سکتا ۔ میں آپ کی دل سے بہت عزت کرتی ہوں اور چاہتی ہوں آپ کو بلکل آپ کی طرح محبت کروں ۔ کہتے کہتے اس کی آنکھیں بھیگنے لگی ۔
اظہار ہاں وہ آج اظہار کررہی تھی ۔ اس نے دل جیت لیا تھا اس کا وہ اس کا یوشع تھا اور وہ اس کی ریحام ۔
یوشع نے اس کے آنسو صاف کرکے اسے اپنے سینے سے لگا گیا اور وہ اسی طرح اس کے ساتھ بیٹھی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے لگی اپنے گزرے دن بتانے لگی
یوشع خاموشی سے اس کی ساری باتیں سن نے لگا۔
اندازہ ہی نہیں ہوا کہ کب دن نکل آیا دھوپ جب دونوں کے چہرے کو چھونے لگی ۔
ریحام کو احساس ہوا کہ وہ آج کچھ زیادہ ہی بول رہی ہے تو ایک دم چپ ہوئ ۔
یوشع اسے ایک دم چپ ہوتے دیکھ بے اختیار ہنسا۔
کیا ہوا آپ ہنس کیوں رہے ہیں ؟
ریحام کو اس کا ہنسنا عجیب لگا۔
نہیں نہیں وہ میں تمہاری کیوٹ سی شکل دیکھ کے ہنس گیا ۔ یوشع گڑبڑا گیا ۔
اچھا چلو اب دن نکل آیا ہے چلو نیچے چلتے ہیں۔
یوشع اس نے کہنے لگا ۔
یوشع !
ریحام کے پکارنے پر یوشع نے پلٹ کر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
آج سے ان پلانٹس کی زمہ داری میری ۔ وہ خوشی خوشی اس سے کہہ رہی تھی ۔
ٹھیک ہے لیکن رات میں چھت پر مت آنا ۔
پھردونوں نیچے آگۓ ۔
میں ناشتہ بنادوں ؟ ریحام نے سیڑھیوں سے اترتے ہوۓ کہا ۔
نہیں ناشتہ تھوڑی دیر سے کروں گا ابھی سووں گا بس ۔ یوشع نے روم میں جاتے ہوۓ کہا ۔
کیوں آپ نے آج آفس نہیں جانا ؟ ریحام نے پوچھا۔
ماۓ ڈئیر وائفی آج سنڈے ہیں ۔
یوشع کے کہنے پر ریحام چپ ہوگئ ۔
یوشع سوگیا اور ریحام کچن میں آکر سامان سمیٹنے لگی ۔ جب تک یوشع سو کر اٹھا ریحام پورا کچن سمیٹ چکی تھی ۔
واہ اتنی جلدی سب کر بھی لیا میں نے تو سوچا تھا کہ مل کر کرلیں گے ۔ یوشع سر کھجاتا ہوۓ کہنے لگا ۔
ریحام مسکراگئ ۔ یہ سب اتنی جلدی کہاں ہوا ہے ٹائم دیکھیں زرا گھڑی میں ۔ ریحام نے اسے گھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
یوشع نے جب گھڑی کی طرف نظر کی تو دھنگ رہ گیا گھڑی میں ایک بج رہا تھا ۔
ہیں ؟ میں اتنی دیر کیسے سو گیا ؟
وہ حیرت سے پوچھنے لگا ۔
ہو جاتا ہے کبھی کبھی میں بھی اس دن ایسی سوئ تھی ۔ ریحام مصروف سے انداز میں کہہ رہی تھی ۔
یوشع واپس روم میں چلا گیا اسے اندازہ تھا یہ کام سمیٹنے میں بہت تھکن ہوگئ ہوگی تو اس نے باہر سے آرڈر کردیا ۔
فریش ہو کر جب وہ نیچے آیا تو ریحام اس سے کھانے کا ہی پوچھ رہی تھی ۔
یوشع کھانے میں کا بناوں ؟
اب رہنے دو میں نے آرڈر کردیا ہے تم شام میں بنا لینا کچھ ابھی تھک بھی گئ ہوں گی ۔ یوشع اس کا احساس کرنے لگا ۔ پھر اس کے کام کی بھی تعریفیں کرنے لگا ۔
ہاں میں سچ کہہ رہی ہوں اس نے مجھے بچایا اور پھر کالج ڈراپ بھی کیا ۔
لمظ خوشی خوشی انیقہ کو بتارہی تھی ۔
تمہیں ضرور کوئ مس انڈراسٹینڈینگ ہوئ ہوگی عمار تمہیں کیوں لفٹ دے گا وہ کہاں اور ہم کہاں ۔ انیقہ کے لہجے میں عمار کے لیے برتری تھی اور اپنے اور لمظ کے لیے حیقارت تھی ۔
تمہیں یقین نہیں آرہا نا میری بات پر ابھی میں تمہیں کچھ دکھاتی ہوں ۔ لمظ نے جلدی سے اپنے بیگ سے اس کا کارڈ نکال کر دکھایا ۔ وہ کارڈ اس کی کمپنی کا پر وہ بہت کم آفس جاتا تھا ۔ لیکن اس کارڈ پر اس کا نام اور نمبر مینشن تھا ۔
انیقہ کو شوکڈ لگا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ عمار جیسے لڑکے نے لمظ جیسی مڈل کلاس لڑکی کو اپنا نمبر کیسے دے دیا پھر اس نے سوچا لمظ خوبصورتی میں کسی سے کم نہیں تھی سفید دودھیہ رنگت اس پر بڑی بڑی گرے آنکھیں اور دونوں گالوں پر ڈمپل اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتی ہے ۔
یہ بھی ہوسکتا ہے تم اسے اچھی لگ گئ ہو۔
انیقہ نے نمبر دینے کی وجہ ڈھونڈی ۔
کیا واقعی ؟ لمظ کو یقین نا آیا ۔
ویسے یار لمظ سوچو اگر یہ ہمارے ہاتھ آگیا تو ہماری تو عید ہی ہوجاۓ گی ۔ انیقہ کے دل میں لالچ آیا ۔
مطلب میں سمجھی نہیں تم کیا کہنا چاہ رہی ہو ؟
لمظ اس کی بات سے پریشان ہوئ ۔
ارے میں یہ کہہ رہی ہوں کہ اگر تمہاری شادی اس سے ہوگئ تو اس کا سب کچھ تمہارا ہوگا اور تم اورمیں الگ تھوڑی ہیں ۔ انیقہ نے شیطانی انداز میں کہا ۔
پر وہ مجھ سے شادی کیوں کرے گا ؟
لمظ کنفیوز ہوئ ۔
ادھر بیٹھو میں تمہیں سمجھاوں ۔ انیقہ اسے بٹھاتے ہوۓ ساری بات آہستہ آہستہ سمجھانے لگی ۔
اب جیسے جیسے میں کہوں تم بلکل ویسی کرنا یہ لڑکا ہاتھ سے نہیں جانا چاہیے بس تم اسے اپنی خوبصورتی کا گرویدہ بنا لو ۔
یار تمہارا دماغ درست ہے میں ایسا نہیں کرسکتی
میں کسی کو استعمال نہیں کروں گی ۔
لمظ کو انیقہ کی سوچ پر غصہ آیا ۔
یار کیا تم باقی کی زندگی بھی اسی غربت میں گزارنا چاہتی ہو جیسے بچپن سے ہر چیز کے لیے ترسی ہو ویسی آگے بھی ترسو ۔ تمہارے بھائیوں نے تو تمہیں مڑ کر نہیں دیکھا اب کیا صدف آنٹی پر ہی بوجھ بنی رہو گی ؟ انیقہ کے الفاظ اسے کافی حد کر پگھلا چکے تھے۔
پر میں کسی کے ساتھ دھوکا نہیں کر سکتی ۔
لمظ کی سوئ وہی اٹکی تھی ۔
دھوکا دینے کا کون کہہ رہا ہے ؟
تم بس عمار کو اپنے پیار میں پھسا لو پھر وہ تم سے شادی کر لیگا اور تمہاری لائف سیٹ ہوجاۓ گی ۔
انیقہ نے اس کا برین واش کیا ۔
مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ مجھ سے محبت یا شادی
کرے گا ؟ لمظ کو اپنا آپ حقیر لگا ۔
اب سے جو میں کہوں گی بس وہی کرتی رہنا ۔
انیقہ نے اپنا شیطانی دماغ چلایا اور ہنسنے لگی ۔
ہیلو اسلام علیکم !
اگلی جانب کوئ نہیں بولا آس پاس سے تیز میوزک کی آواز آرہی تھی ۔
ہیلو ہیلو ... لمظ نے پھر سے کہنے کی کوشش کی۔
ہیلو کون ؟ عمار نے ان نون نمبر دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
جی وہ میں ہوں لمظ ۔
کون لمظ ؟
وہ صبح آپ نے میری ہیلپ کی تھی اور اپنا نمبر بھی دیا تھا ۔ لمظ نے اسے یاد دلانے کی کوشش کی۔
جی جی لمظ کیسی ہیں آپ ؟
عمار نے پہچان لیا ۔
جی میں ٹھیک ہوں ۔ لمظ چپ ہوئ ۔
اچھا لمظ میں کچھ دیر میں کال کرتا ہوں ابھی میں کہیں آیا ہوا ہوں ۔ عمار نے کہہ کر کال کٹ کردی ۔
کون تھا ؟ عمار کی گرل فرینڈ نے پوچھا ۔
کوئ نہیں تم آؤ ڈانس کریں ۔ عمار اس لڑکی کے ساتھ ڈانس کلب میں آیا ہوا تھا ۔
اگلے دن انیقہ اور لمظ کالج سے واپس آرہی تھی تو عمار سامنے والے انسٹی ٹیوٹ سے نکل رہا تھا لمظ کو دیکھ کر وہی آگیا ۔
ہاۓ لمظ ! عمار نے بے تکلفی سے لمظ کو کہا ۔
ہاۓ ! لمظ نے بھی ہاۓ کہا ۔
یہ ؟ عمار نے انیقہ کی طرف دیکھتے ہوۓ لمظ سے پوچھا ۔
او سوری ... یہ میری دوست انیقہ ہے ۔
لمظ نے انٹروڈیوز کروایا ۔
اچھا ویسے تو ہم دوست بن چکے ہیں تو کیوں نا کہیں لنچ پر چلیں ؟ عمار نے لمظ سے پوچھا ۔
لمظ انکار کرنا چاہ رہی تھی مگر انیقہ نے آنکھ کے اشارے سے ہاں کہنے کا کہا ۔
لمظ گڑبڑا گئ ۔
ہاں ہاں شیور لمظ ضرور آۓ گی آپ بتا دیں کہاں لنچ ہے ؟ انیقہ نے عمار سے کہا ۔
پر میں اکیلے نہیں جا سکتی ۔ لمظ نے عمار سے کہا۔
نو ایشو آپ اپنی فرینڈ کو بھی لاسکتی ہیں ۔
ٹھیک ہے پھر کل لنچ پر ملتے ہیں روڈ کے اس پار والے ریسٹورینٹ میں ۔ عمار کہہ کر کچھ دیر موبائل پر لگا رہا پھر چلا گیا ۔
یس یس کتنا مزہ آۓ گا یار تمہیں پتا بھی ہے وہ ریسٹورینٹ کتنا مہنگا ہے ۔ عنیقہ خوشی خوشی کہہ رہی تھی ۔
یار امی کو کیا کہیں گے ؟ لمظ پریشان ہوگئ ۔
تم آنٹی کی فکر نا کرو کہہ دیں گے دوست کے گھر اسٹڈی کے لیے ۔ انیقہ نے بہت ارام سے کہا ۔
یار امی روز روز جانے نہیں دیں گی ۔ لمظ نے پریشان ہوتے ہوۓ کہا ۔
تم فکر مت کرو آنٹی سے میں بات کر لوں گی اور بات سنو ہم بہت بڑے ریسٹورینٹ میں جارہے ہیں تو زرا کوئ ڈھنک کا سوٹ پہن لینا ۔
نہیں یار میں ابایا پہن کر جاوں گی ۔
ارے تم ڈیٹ پر جارہی ہو اور ابایا پہنو گی ؟
انیقہ اس کا مزاق بنانے لگی ۔
میں کوئ ڈیٹ شیٹ پر نہیں جارہی ۔ وہ تو بس ایک دوست کی حیثیت سے مل رہے ہیں ۔ لمظ نے انیقہ کی غلط فہمی دور کرنی چاہی ۔
اچھا چھوڑو بس تم ابایا پہن لینا پر پلیز نقاب مت لینا آخر عمار کو اپنا حیرو بھی تو بنانا ہے ۔ انیقہ چھیڑنے لگی ۔

0 Comments