وہ اسلام آباد کا ایک خوبصورت اوپن ایئر ریسٹورنٹ تھا ۔ہر طرف گہما گہمی تھی۔ بہت سے لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ, کچھ اپنی بزنس ڈیلز کے سلسلے میں اور کچھ کپلز بیٹھے کھانے کے ساتھ موسم بھی انجوائے کر رہے تھے ۔وہ بھی ایک بزنس ڈیل کے سلسلے میں یہاں آیا تھا ۔ایش گرے تھری پیس, سرخ و سفید رنگت, سیاہ چمکدار سفاک آنکھیں جن میں مقابل کو چت کرنے کے ساتھ اسے وحشت زدہ کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی ۔سیاہ ہلکی سی بڑھی ہوئی بئیرڈ ,اور سیاہ لمبے بال کو جوڑے کی شکل میں بندھے تھے ۔اس کی گردن پر کان کے نیچے دو کالے تل تھے ,ایک ہاتھ میں خوبصورت برانڈڈ گھڑی, دوسرے میں بینڈز , بیٹھے ہوئے بھی اس کا دراز قد واضح تھا ۔اس کی شخصیت ایسی تھی کہ کسی کو بھی اپنے سحر میں جکڑ سکتی تھی۔ابھی کچھ دیر قبل اس کی میٹنگ شروع ہوئی تھی اور وہ پورے انہماک سے میٹنگ میں بزی تھا جب اسے اپنے پیچھے سے کھنکتا ہوا شرارتی لہجہ سُنائی دیا ۔" یہ اتنا جو مسکرا رہے ہو۔۔۔۔ کونسی بلبل کا خیال ہے جو چُھپا رہے ہو ؟" ہیزل گرین آنکھوں میں شرارت کی چمک تھی جبکہ سرخ لبوں پر شرارتی مسکراہٹ رقصاں تھی ۔"تمیز سے بات کرو مانو میں تم سے بڑا ہوں! " مقابل نے کچھ غصے اور کچھ بے بسی سے اس کی بات کا جواب دیا جس کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔" ہاں صرف تین منٹ۔۔۔" اس نے ہنستے ہوئے اس کی بات کا مذاق اڑایا ۔" خیر اگر تم نے اپنا کنواں بھر لیا ہو تو چلیں ؟" اس ہیزل گرین آنکھوں والے لڑکے نے اس کے مسلسل کھانے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا ۔دونوں کی آنکھوں کا رنگ بالکل ایک جیسا تھا ۔" اوئے زر بدتمیز! تمہارا ہوگا کنواں ۔۔۔۔۔ میرا تو بیچارہ چھوٹا سا معصوم سا بیلی ہے۔۔۔۔ تمہیں زرا شرم نہیں آتی ایسے کہتے ہوئے ؟" اس نے دفاعی انداز اپناتے ہوئے مصنوعی غصہ دکھایا ۔" بالکل نہیں آتی infact تمہیں دیکھ کر بھاگ جاتی ہے " اس نے بھی حساب برابر کیا ۔اس کی بات سن کر اس لڑکی نے سر کو نفی میں ہلایا ۔" بات کو بدلنے کی کوشش مت کرو اور تمیز سے بتاؤ کہ کونسی چڑیا پھنسائی ہے ؟" اس نے مزہ لینے والے انداز میں آئی برو اچکا کر سوال کیا ۔اس کی بات سن کر سامنے بیٹھے لڑکے نے بے ساختہ اسے گھورتے ہوئے اپنے آس پاس نظر دوڑائی کہ کہیں کسی نے اس کی بات تو نہیں سُن لی ۔۔۔۔" مانو اپنی زبان تو دیکھو ۔۔۔۔۔لڑکیاں ایسے بات کرتی ہیں کیا ؟" اس نے سامنے بیٹھی لڑکی کو دھیمی آواز میں لتاڑا جو مزے سے دانت نکال رہی تھی ۔" اس میں بھی سارا قصور تمہارا ہے برفانی لنگور۔۔۔۔۔! "اس نے سارا الزام اس لڑکے پر ڈال دیا جو حیرت کا بت بنا اپنے پر لگنے والا الزام سن رہا تھا ۔" میرا۔۔۔۔۔؟" وہ حیرت سے آہستہ آواز میں چیخا ۔" میرا قصور کیسے ہے؟؟ آپ زرا اس پر روشنی فرمائیں گی مِس زرمین خان بنگش ۔۔۔۔؟ اس نے ایک ایک لفظ چُبا کر پوچھا ۔" ہاہا سمپل سی بات ہے سٹوپڈ کہ جب سارا دن تمہارے ساتھ رہوں گی تو ایسی ہی زبان ہوگی نا ۔۔۔" زرمین نے شانِ بے نیازی سے کہتے ہوئے کندھے اُچکائے ۔سامنے والے کی ہیزل گرین آنکھوں میں حیرت سے زیادہ دکھ ہلکورے لینے لگا ۔" میں اتنی گندی زبان استعمال نہیں کرتا سلی گرل۔۔۔۔۔یہ فادی کی زبان کا الزام تم میرے پر نہیں لگا سکتی ۔ " اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انگلی اٹھا کر وارن کیا ۔اس کی بات سن کر وہ ہنس دی ۔" زرجان خان بنگش۔۔۔۔۔ let me tell you one thing very clearly ––– میں کچھ بھی کرسکتی ہوں ۔۔۔۔" اسنے اٹھتے ہوئے کہا ۔"اور ہاں پیمنٹ کر کے جلدی آنا میں گاڑی میں انتظار کر رہی ہوں۔۔۔ "اس کی بات سُن کر زرجان کو اچھو لگا۔ اس نے فوراً منہ صاف کر کے زرمین کو بازو سے پکڑا۔" مانو چیٹر۔۔۔ آج کا لنچ تمہاری طرف سے تھا تو پیمنٹ میں کیوں کروں ؟ "" لنچ تو میری طرف سے ہی تھا مگر صرف تب تک جب تک کھا رہے تھے۔۔۔۔ اب جب کھا لیا ہے تو پیمنٹ تم ہی کروگے۔۔۔۔۔اور ویسے بھی تم نے زیادہ کھایا ہے! "اس نے کہتے ہوئے ایک جھٹکے سے اپنا بازو اس کے ہاتھ سے چھڑوایا اور باہر جانے کو بڑھی مگر مسکراتی ہوئی رک کر دوبارہ مڑی ۔"ویسے مسٹر مولی تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا تو اب تمہیں پنالٹی پے کرنی پڑے گی۔۔۔۔اور جلدی آنا I'm waiting...... "اس کی بات سُن کر زرجان سر پیٹ کر رہ گیا ۔اپنی پنالٹی کی پیمنٹ بھی مجھ سے کروارہی ہے اور مجھے بھی ڈال دی ہے ؟؟"اس نے کڑھتے ہوئے سوچا مگر اچانک کچھ یاد آنے پر پیچھے سے ہانک لگائی ۔" مگر گاڑی کی چابی تو میرے پاس ہے۔۔۔۔"اس کی بات سن کر زرمین کے ہونٹوں پر مسکان آگئی ۔"کوئی بات نہیں میں گاڑی کی چھت پر بیٹھ کر انتظار کر لوں گی! "اس کی بات سن کر کئی لوگوں نے مڑ کر اس کو دیکھا مگر اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی وہ کہہ کر باہر کی طرف چل دی ۔میٹنگ کے دوران اس نے ان دونوں کی گفتگو بخوبی سنی تھی ۔ آخری بات پر اس نے گردن زرا سی ترچھی کر کے اسے نمونے کو دیکھنے کی کوشش کی مگر اس کی طرف زرمین کی پشت تھی ۔اس نے ایک سرسراتی نظر میں ہی اس کا مکمل جائزہ لے لیا ۔ڈھیلی ڈھالی سے وائیٹ ٹی-شرٹ , بلیک جینز, نیچے سنیکرز پہنے, گولڈن براؤن بالوں کی ہائی پونی ٹیل کر رکھی تھی ۔ایک کندھے پر لیدر کا اپنے جیسا چھوٹا سا بیگ پہن رکھا تھا جس کی ایک لٹکن لٹک کر ٹانگ تک جا رہی تھی اور دوسری کندھے پر پہننے کی بجائے نیچے لٹکتی اپنی بے قدری کا رونا رو رہی تھی ۔وہ کوئی سٹوڈنٹ لگ رہی تھی ۔وہ اس پر سرسری نظر ڈال کر میٹنگ کی جانب متوجہ ہوگیا ۔زرجان جلدی سے پیمنٹ کرکے باہر آیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ واقعی گاڑی کی چھت پر بیٹھ جائے گی ۔باہر آکر اس کا خدشہ سچ ثابت ہوا ۔وہ بلیک ٹیوٹا ہائی لکس کی چھت پر بیٹھی کانوں پر ہیڈ سیٹ لگائے زرجان کو غصہ دلا گئی ۔زرجان کے پیچھے ہی وہ بھی میٹنگ ختم کر کے باہر آیا تھا اور اپنی گاڑی کے ساتھ کھڑی گاڑی پر نظر پڑتے ہی اس کے لب غیر محسوس انداز میں مسکرائے ۔وہ لڑکی واقعی گاڑی کے اوپر بیٹھی انتظار کر رہی تھی ۔ہر آنے جانے والا اس کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔" unpredictable "وہ سر جھٹک کر بڑبڑایا اور اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا ۔اس نے ابھی تک اس لڑکی کا چہرہ نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اسے کوئی دلچسپی تھی ۔زرجان نے ایک نظر سب کو دیکھا جو زرمین کو عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔غصے سے اس کے ماتھے کی رگ واضح ہورہی تھی ۔وہ تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھا اور پیچھے سے گاڑی میں چڑھ کر زرمین کو بازوؤں سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا ۔اپنے پیچھے اچانک اس افتاد پر بے ساختہ زرمین کی چیخ نکل گئی ۔" چھوڑو زر میں گر جاؤں گی ۔۔۔۔" اس نے ٹانگیں مارتے ہوئے زرجان کو اس کی حرکت سے باز رکھنا چاہا ۔مگر زرجان نے اسے اتار کر ہی دم لیا ۔گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس نے اس لڑکی کی یہ حرکت بھی دیکھی تھی اور اس کا چہرہ بھی ۔وہ اسی کی یونیورسٹی میں پڑھتی تھی مگر کبھی بات کرنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ۔لیکن اس کی شکل دیکھ کر وہ پہچان گیا تھا کیونکہ زرمین خان بنگش اپنی شرارتوں سے پوری یونیورسٹی میں مشہور تھی ۔"تمہارا دماغ ٹھیک ہے مانو۔۔۔۔؟ کیوں اپنا تماشا بنواتی ہو ہر جگہ؟؟ دیکھو سب تمہیں کیسے دیکھ رہے ہیں کہ یہ کونسا نیا عجوبہ آگیا ہے اسلام آباد میں ۔۔۔۔! "زرجان نے غصے سے کہتے ہوئے اسے بازو سے پکڑ کر نیچے اتارا اور فرنٹ ڈور کھول کر اسے اندر بٹھایا , خود آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔اس کو شدید غصے میں دیکھ کر اسے اپنی غلطی کا احساس تو کسی صورت نہیں ہوا نہ ہی کبھی ہوسکتا تھا مگر زرجان کو ٹھنڈا کرنے کا طریقہ اس کے پاس ضرور تھا ۔" اوکے زر۔۔۔۔ آئیم رئیلی ویری سوری۔۔۔۔ نیکسٹ ٹائم میں ایسا کچھ نہیں کروں گی پرامس ۔"اس نے معصوم شکل بناتے ہوئے گاڑی چلاتے زرجان کا بازو پکڑے کہا تو وہ مزید چڑ گیا ۔" سوری تم ہمیشہ کرتی ہو ۔۔۔۔ اور ہمیشہ ہی رزلٹ زیرو ہوتا ہے , مجھے نہیں چاہیے تمہاری سوری اور پرامسس ۔۔۔۔ اپنے پاس رکھو۔۔۔۔! "اس نے اپنا بازو جھٹکتے ہوئے لہجے کو سخت ہونے سے روکا ۔وہ اپنی جان سے عزیز بہن پر سختی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر زرمین کی حرکتیں اسے مجبور کرتی تھیں ۔" پلیز زر پکا والا سوری نا۔۔۔۔مان جاؤ نا پلیز۔۔۔۔۔ اچھا نا میں اسکی پنالٹی بھی پے کردوں گی اوکے۔۔۔۔؟ " اس نے روہانسی شکل بنا کر کہتے ہوئے زرجان کے کندھے پر سر رکھا ۔" اف مانو ایسی معصوم شکل بنا کر تم مجھے ہمیشہ منا لیتی ہو ۔۔۔۔اچھا چلو اب پیچھے ہوکر بیٹھو ایکسیڈنٹ کرواؤ گی کیا ۔۔۔؟ اس نے بات نرمی سے کی مگر چہرے پر ابھی تک سختی کے مصنوعی تاثرات سجائے تھے ۔اس کی لہجے کی نرمی دیکھ کر زرمین نے بھی فوراً اپنی ٹون بدلی, وہ زیادہ دیر تک اس کی منتیں نہیں کرسکتی تھی ۔"زر اب بس مان جاؤ نہیں تو میں واقعی گاڑی ان بیلنس کرکے ایکسیڈنٹ کردوں گی ۔"اس کی بات پر زرجان مسکرا دیا ۔"او ڈئیر گاڑی آپ نہیں ۔۔۔ میں چلا رہا ہوں ۔" زرجان نے دل جلانے والی مسکان چہرے پر سجاتے ہوئے اس کی انفارمیشن میں اضافہ کیا ۔" او سٹوپڈ میرا ہاتھ سٹیرنگ سے بالکل بھی دور نہیں ہے۔۔۔" اس نے سٹئیرنگ کو ہاتھ لگاتے ہوئے بالکل اسی کے انداز میں جواب دیا ۔"اوکے فائن ۔۔۔۔ میں نے تمہاری سوری ایکسیپٹ کرلی ۔۔۔لیکن پنالٹی تو تمہیں میری مرضی کی ہی پے کرنی ہوگی ۔۔۔۔"زرجان نے ہاتھ اُٹھا کر سیز فائر کرتے ہوئے شرط بھی رکھ دی ۔"اوئے پاگل تو نہیں ہوگئے مر جائیں گے ہم دونوں ۔۔۔" زرمین نے دہل کر اس کے دونوں ہاتھ دوبارہ سٹئیرنگ ویل پر جمائے ۔" اچھی بات ہے نا۔۔۔۔۔ اکٹھے آئے تھے , اکٹھے جائیں گے ۔" زرجان نے اسے چڑانے کے لیے اسکی پونی کھینچتے ہوئے ہنس کر کہا ۔حسب معمول وہ پونی کھینچے جانے کی وجہ سے چڑ گئی۔" جان۔۔۔۔" اس نے غصے سے چیخ کر گھورتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اسے وارننگ دی ۔زرجان ہنس دیا ۔اس نے زرجان کو گھورتے ہوئے کانوں پر ہیڈ سیٹ لگایا اور اس سے رخ موڑ کر باہر دیکھنے لگی جو اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ وہ مزید بات نہیں کرنا چاہتی ۔" silly girl "اس نے ہنس کر کہتے ہوئے ساری توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز کردی ۔
جاری ہے___

0 Comments